تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
12 فروری 2013
وقت اشاعت: 17:7

سروائیکل کینسر خواتین کے ساتھ مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے،پروفیسر ہاؤسین

لکھنو…ایراز لکھنو میڈیکل کالج کے زیر اہتما م آنکو2013 کا اہتمام کیاگیا۔اس موقع پر جرمن نوبل انعام یافتہ پروفیسر زرہاؤسین مہمان تھے۔ اپنے خطاب میں پروفیسر سین نے سروائیکل کینسر اور اس کے جراثیم کے متعلق اہم معلومات سے شرکاء کو آگا ہ کیا۔ انہوں نے بتایاکہ خواتین میں پھیلنے والے رحم کے کینسر سے ان کے ساتھ رہنے والے مرد بھی متاثر ہوسکتے ہیں اس لئے لازمی ہے کہ خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی ایچ پی وی کی ویکسین دی جائے تبھی اس مرض پر قابو پانا ممکن ہے۔ ایراز لکھنو میڈیکل کالج میں منعقد ’ایوانس ان کینسر ریسرچ اینڈ سمپوزیزم ، سروائیکل کینسر ‘نامی قومی سمینار میں پی جی آئی کے ڈائریکٹر پروفیسر آر کے شرما ، ایراز ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر کلب صادق ، پرنسپل وڈین ڈاکٹر ٹی پربھاکر اور شعبہ پیتھالوجی کے پروفیسر اے این سرواستو سمیت بڑی تعداد میں ڈاکٹروں ، کالج کے افسران وطلبا نے شرکت کی۔ پروفیسر ہاوسین نے مزید کہا کہ آج کے دورمیں سروائیکل کینسر کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہیہے، ستر کے دہائی میں بھی اس مرض کی رپورٹ موصول ہورہی تھی لیکن مزید اطلاع اور ڈکٹیشن تکنیک بہتر نہ ہونے کے سبب مرض کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا تھا۔ لیکن آج اس کے لاکھوں متاثرین سالانہ سامنے آرہے ہیں۔بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں سروائیکل کینسر کی تعدا دبہت ہے،کوئی سروے رپورٹ نہ ہونے کے سبب ایک مقررہ تعداد تو نہیں بتائی جاسکتی ہے لیکن مریضوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ سروائیکل کینسر ایچ وی پی کے سبب ہوتا ہے،اور اس سے خواتین کی تولیدی صحت بھی متاثرہوتی ہے۔اس کے ویکسین بازار میں موجود ہیں اور اگر اس کی معلومات ابتدائی مرحلو ں میں ہوجائے تو آسانی سیعلاج ہوسکتا ہے۔پی جی آئی کے ڈائریکٹر پروفیسر آ کے شرما نے کہا کہ ابھی اس شعبے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اے ای سرواستو نے کہا کہ ایچ پی وی کا ٹیسٹ کافی مہنگا ہے جس کے سبب دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین اس ٹیسٹ کو نہیں کراپاتیں،دیہی علاقوں میں پے پی لوما جراثیم زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ لیکن اس کا پتہ بھی انہیں تبچلتا ہے جب یہ جراثیم پچاس فیصد کے قریب جسم میں پھیل جاتا ہے۔ یہ مرض کا چوتھا مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں مرض کا پتہ چلنے کے بعد بھی مریض کی جان نہیں بچا ئی جاسکتی،لہذا مرض کی اسکرینگ کی سہولیات میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.