24 مارچ 2013
وقت اشاعت: 5:50
بلوچستان میں تپ دق کے مریضوں میں سالانہ بیس ہزار کا اضافہ
کوئٹہ…بلوچستان میں تپ دق کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ بیس ہزار کا اضافہ ہورہاہے۔ بلوچستان میں صحت عامہ کی سہولتون کے فقدان کی وجہ سے ویسے تو ہر بیماری ہی مسئلہ ہے،مگر کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو ایک سے دوسرے میں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اس لئے ان کی فوری روک تھام انتہائی ناگزیر ہوگئی ہے،ان میں تپ دق کی بیماری قابل ذکر ہے،اس بیماری کے آسانی سے پھیلنے کے باعث صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بلوچستان میں اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں سالانہ بیس ہزار تک کا اضافہ ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ایک لاکھ کی آبادی میں سے 231افراد کو تپ دق ہے ماہرین کے مطابق ایسے مریض سال میں دس سے پندرہ صحت مند انسانوں میں تپ دق کا جرثومہ منتقل کرسکتے ہیں،ایک طرف تو یہ صورتحال ہے دوسری جانب علاج کے لئے حکومت کی جانب سے سہولتیں تو مہیا کی جارہی ہیں مگر مریضوں کی جانب سے علاج ادھورا چھوڑنے کے باعث صورتحال سنگین ہورہی ہے۔عام طور پر ایک مریض کے علاج پر تین سے چار ہزار روپے تک کا خرچ آتا ہے مگر علاج ادھورا چھوڑ دیا جائے تو مزاحمتی تپ دق کے مریض کے علاج کا خرچہ آٹھ سے دس لاکھ روپے تک پہنچ جاتاہے۔پاکستان چیسٹ سوسائٹی بلوچستان کے مطابق سال 2005سے اب تک تپ دق کے 53ہزارمریضوں کا علاج کیاجاچکاہے،اتنے مریضوں کی تعداد بہرحال لمحہ فکریہ ہے، تپ دق کی روک تھام کے لئے مناسب آگہی کی اشد ضرورت ہے،بصورت دیگر اس مرض کو وبائی شکل اختیار کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔