28 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 9:47
نیّر سلطانہ، المیہ اداکاری کی ماہر، ملکۂ جذبات
جیو نیوز - کراچی......مشتاق احمدسبحانی......پاکستانی فلمی صنعت کے سنہرے دور کے اہم اداکاروں میں نیّر سلطانہ نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ دھیمے لہجے اور دل کش آواز والی اس خوبصورت اداکارہ نے تقریباً 40برس کے کیرئیر کے دوران دو سو سے زائد فلموں میں ہیروئین اور سائیڈہیروئین کے کردار اور کیریکٹر رولز کئے اور شائقین اور ناقدین سے دادہائے تحسین وصول کی۔انہوں نے کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کئے۔
نیّر سلطانہ ایک باوقار اور شائستہ خاتون تھیں اوران کا طویل فلمی کیرئیر کسی بھی قسم کے تنازعے اور اسکینڈل سے پاک رہا۔انہوں نے اپنے عروج کے دور میں مشہور اداکاردرپن سے شادی کی اورنہایت خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری۔
اپنے شوہر کے انتقال کے بعد ان کی ریکروٹنگ ایجنسی کے کاروبار کو انہوں نے آخر وقت تک نہایت کامیابی سے چلایا۔ فلموں میں بھی کام کرتی رہیں،گھر داری بھی کی اور اپنے دونوں بیٹوں کو اعلی تعلیم دلائی۔
1937ء میں علی گڑھ کے ایک اوسط درجے کے گھرانے میں پیدا ہونے والی نیّر سلطانہ کا اصل نام طیّبہ بانو تھا۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے کراچی آگئیں۔
طالبِ علمی کے دورہی سے انہیں اردو ادب، شاعری اور اسٹیج ڈراموں سے دلچسپی ہوگئی تھی۔ایک مرتبہوہ اپنے والدین کے ساتھ لاہور گئیں جہاں ان کی ملا قات ایک رشتہ دار شمیم بانو سے ہوئی۔شمیم فلم ساز و ہدایت کار انور کمال پاشا کی اہلیہ تھیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل بمبئی اور بعدمیں لاہور میں فلموں میں اداکاری کرتی تھیں اور شادی کے بعد فلمی دنیا کو خیرباد کہہ چکی تھیں۔ شمیم اور پاشا نے طیّبہ کوفلموں میں اداکاری کی پیشکش کی اور اس کے لئے ان کے والدین کو قائل کیا۔
پاشااْن دنوں فلم ”قاتل“ بنا رہے تھے۔اس میں انہوں نے طیّبہ کو ایک معاون کردار میں پیش کیااور ان کا فلمی نام نازلی رکھا۔یہ فلم 1955ء میں نمائش پذیر ہوئی۔اسی دوران طیّبہ کراچی آئیں تو یہاں فلم ساز و ہدایت کار ہمایوں مرزا نے انہیں اپنی فلم ”انتخاب“میں سائیڈہیروئین کاسٹ کیااور ان کا نام نازلی سے بدل کرنیّر سلطانہ رکھ دیا۔اس کے بعد سے وہ ہمیشہ اسی نام سے کام کرتی رہیں۔
1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”سات لاکھ“ میں انہیں بہترین معاون اداکارہ کا نگار ایوارڈ ملا۔1960ء میں نمائش پذیر ہونے والی فلم ”سہیلی“نے انہیں عْروج پر پہنچادیا۔اس فلم میں ان کی با کمال اداکاری نے انہیں بہترین معاون اداکارہ کے صدارتی ایوارڈ اور بہترین اداکارہ کے نگار ایوارڈ سے نوازا۔
بعد میں انہوں نے 1962ء میں فلم ”اولاد“ میں بہترین اداکارہ اور 1974ء میں ”بہشت“ میں بہترین معاون اداکارہ کے نگار ایوارڈز بھی حاصل کئے۔ اس طرح انہوں نے چار مرتبہ نگار ایوارڈاور ایک بارصدارتی ایوارڈوصول کیا۔
نیّر سلطانہ کی یادگار فلموں میں ”آدمی“، ”مظلوم“، ”ثریّا“،” اولاد“، ”مہتاب“، ”گھونگھٹ“، ”ماں کے آنسو“، ”یہودی کی لڑکی“، ”باجی“، ”دلہن“، ”عورت ایک کہانی“، ”دیوداس“، ”سزا“،” بہشت“، ”پہچان“، ”اک گناہ اور سہی“ اور ”مہمان“کے نام قابل ِذکر ہیں۔
وہ سنجیدہ کرداروں کی ادائیگی اور المیہ اداکاری میں بے مثال تھیں جس کے باعث ملکہ جذبات کہلاتی تھیں۔نیرسلطانہ سرطان کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 27اکتوبر1992ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئیں۔