2 نومبر 2015
وقت اشاعت: 5:16
ملیے مس تھائی لینڈ سے جو سڑکوں پر کچرا چنتی ہیں
جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......جنوب مشرقی ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں کچرا چننے والی غریب لڑکی مس تھائی لینڈ منتخب ہوئی ہیں جو گزشتہ 17 سالوں سے اپنی ماں کے ساتھ کوڑا کرکٹ جمع کرنے والے گھر میں پلی بڑھی اور کچرا جمع کرتی رہی ہیں۔
’بینکاک پوسٹ‘ کے مطابق 17 سالہ کنشتھا منٹ پھزائنگ نے تھائی لینڈ میں ہونے والے سالانہ خوبصورتی کے مقابلے ’ان سینسرڈ نیوز تھائی لینڈ 2015‘ میں حصہ لیا تھاجس کے 25ستمبر کو ہونے والے فائنل راؤنڈ میں کنشتھا کامیاب ہوئیں۔کشنتھا کو جب تھائی لینڈ کی خوبصورت ترین لڑکی کے اعزاز سے نواز ا گیا تب بھی ان کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ خوبصورتی کا مقابلہ جیت چکی ہیں۔
خواجہ سرا بھی مقابلے کا حصہ تھے
تھائی لینڈ میں ہر سال ہونے والے اس مقابلے میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں، خواتین اور خواجہ سرا حصہ لیتے ہیں۔کامیاب ہونے والے امیدواروں کو خوبصورتی اور ذہانت کے مقرر کردہ معیار پر منتخب کیا جاتا ہے تاہم مقابلے میں خوبصورتی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ہر سال اس مقابلے میں غریب اور متوسط طبقے کی لڑکیاں بھی حصہ لیتی ہیں۔
مس تھائی لینڈ منتخب ہونے کے بعد 17 سالہ کنشتھا منٹ جب ایک ادھیڑ عمر کچرا چننے والی ایک اور عورت کے پاس پہنچی اور فرط جذبات سے اس کے قدموں میں بیٹھی اور اپنا سر رکھا تو لوگ حیران ہوگئے لیکن بعد میں حقیقت معلوم ہونے پر سب نے کنشتھا کی تعریف کی۔جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سمیت عالمی میڈیا نے کنشتھا کی ماں کے قدموں میں سر رکھنے والی تصویروں کو اہم جگہ دی ہے۔
چینی اخبار ”پیپلز ڈیلی آن لائن“ کے مطابق سب کو جذباتی کردینے والے مناظر نے ثابت کردیا کہ والدین قربانیاں دیکر اپنے بچوں کو اہم مقام پر پہنچاتے ہیں۔ میڈیا اور لوگوں کی فکر کئے بغیر مس تھائی لینڈ نے اپنی ماں کے ساتھ گھر میں کھانا بنانے سمیت کچرا چننے میں بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ کنشتھا کا کہنا تھا وہ آج جس مقام پر ہیں وہ سب ان کی ماں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
تھائی لینڈ کی خوبصورت ترین لڑکی کا کہنا تھا ان کی ماں نے کچرا چن کر ان کی مالی مدد کرکے انہیں اس مقام پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی ماں نے کنشتھا کی خوشیوں کے لئے بہت ساری قربانیاں دی ہیں انہوں نے کبھی بھی ان کو آگے بڑھنے سے نہیں روکا۔ انہیں فخر ہے کہ وہ کچرا چننے والی ماں کی کچرا چننے والی بیٹی ہے۔
برطانوی اخبار’ ڈیلی میل‘ کے مطابق 17 سالہ کنشتھا منٹ نے مقامی ہائی اسکول سے گریجو یشن تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ان کا خواب غربت کی وجہ سے پورا نہیں ہوا۔دوستوں کے کہنے پر انہوں نے خوبصورتی کے مقابلے میں حصہ لیا لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ یہ مقابلہ جیت جائیں گی۔
کنشتھا کا کہنا تھا کہ ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہے جہاں خوبصورتی سے متعلق مقابلوں کی تربیت نہیں دی جاتی اس لئے انہیں یقین تھا وہ یہ مقابلہ نہیں جیتیں گی۔جب کنشتھا کوتھائی لینڈ کی خوبصورت ترین لڑکی منتخب کرلیا گیاتب انہیں لگا شاید وہ کوئی سہانا سپنا دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں اپنی ماں اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی حوصلہ افرائی کی۔
خوبصورتی کا مقابلہ جیتنے کے بعد کنشتھا منٹ کو بہت ساری اشتہاراتی کمپنیوں، ٹیلی ویژن اور فلم کمپنیوں کی جانب سے کام کرنے کی پیشکش ہوئی ہے تاہم انہوں نے ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ کنشتھا کے مطابق ان کی ماں کچرا چننے کے کام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ کسی کی مدد یا سہارا لینا مناسب نہیں سمجھتیں۔
17سالہ مس تھائی لینڈ کی ماں جوانی میں ہی اپنے شوہر سے اختلافات کی وجہ سے علیحدہ ہوگئیں تھی لیکن انہوں نے کنشتھا کی وجہ سے دوسری شادی نہیں کی۔ کنشتھا کی ماں نے محنت مزدوری کرکے انہیں پالا۔انہوں نے جوانی میں ہی کچرا چننے کے کام کا آغاز کیا اور اسی سے ہی ان کا گذرا ہوتا تھا۔ کنشتھا نے مختلف نوکریاں کرکے گھر کے حالات بہتر بنانے کی کوشش بھی کی لیکن ان کے گھر کا گذر ا کچرے کی کمائی سے ہی ہوتا رہا۔