4 نومبر 2015
وقت اشاعت: 8:37
دنیا کی پہلی روبوٹک فلمی ہیروئن
جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو...... رواں ماہ ریلیز ہونے والی جاپانی فلم ’سیونارا ‘دنیا کی وہ پہلی فلم ہوگی جس میں ایک ایسی لڑکی مرکزی کردار میں نظر آئے گی جس کے نخرے فلم سازوں اور ساتھی اداکاروں نے برداشت نہیں کئے بلکہ فلم ساز نے 80 میٹر دور بیٹھ کر اس لڑکی سے اپنی مرضی کے مطابق اداکاری کروائی ہے۔
فلمی ہیروئنز کے نازنخروں سے تنگ آکرمعروف جاپانی فلم ساز کوجی فوکیدا نے دس لاکھ ین کے عیوض روبوٹک لڑکی کی خدما ت لی ہیں -جیمی نوئڈ ایف نامی روبوٹک ہیروئن ” سیونارا “ فلم میں معزور لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو پوری فلم میں ویل چیئرکے سہارے گھومتی نظر آتی ہیں۔جیمی نوئڈ نے احساسات سے بھرپور اداکاری کرکے نہ صرف فلمی شائقین کا دل جیتا ہے بلکہ جیمی نوئڈ نے فلمی ہیروئنز کے لئے خطرات کی گھنٹی بھی بجادی ہے۔
برطانوی اخبار’ ڈیلی میل‘ کے مطابق جیمی نوئڈ ایف نامی روبوٹک فلمی ہیروئن کوجاپان کی اوساکا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیروشی اشیگرو نے تخلیق کیا ہے۔ پروفیسر ہیروشی نے پونے آٹھ لاکھ یورو کی لاگت سے جیمی نوئڈ کو تیار کیا۔ روبوٹک لڑکی کیلئے پلاسٹک سرجری کی مدد سے دلکش لڑکی کا چہرابنوایا گیااورفلم کی مناسبت سے روبوٹک لڑکی کی ڈریسنگ اور میک اپ کیا گیا۔
دنیا کی پہلی روبوٹک فلمی ہیروئن جیمی نوئڈ کو ایک لیپ ٹاپ کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ فلمی مناظر کے مطابق روبوٹک لڑکی میں احساسات اور جذبات پیدا کرنے کے لئے بھی لیپ ٹاپ سے ہی کام لیا جاتا ہے۔ فلم ساز کوجی فوکیدا کا کہنا ہے کہ روبوٹک لڑکی فلمی ہیروئن سے زیادہ سمجھدار ہے۔ روبوٹک لڑکی بار بار ری ٹیک نہیں کرواتی اور نہ ہی اسے گھنٹوں تک ریکارڈنگ کرنے کے بعد تھکاوٹ ہوتی ہے۔روبوٹک ہیروئن عام ہیروئنز کی طرح آرام کرنے کے بہانے بھی نہیں کرتی اور نہ ہی یہ کسی ہیرو کے ساتھ اسکینڈلز میں الجھتی ہے۔
فلم ’سیونارا‘ چار سال پہلے آنے والے سونامی طوفان کے بعد تباہ ہونیوالے فکوشیما ایٹمی بجلی گھردھماکوں پربنائی گئی ہے۔ فکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر کے حادثے کو 1986 میں چرنوبل دھماکوں کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی سانحہ کہا جاتا ہے۔فلم کو جاپان میں 21 نومبر کو سینما کی زینت بنایا جائے گا۔
وہ بھارتی فلمیں جن میں روبوٹس ٹیکنالوجی کو استعال کیا گیا
جاپانی فلم ”سیونارا“ کے علاوہ بھی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی کئی ایسی مشہور اور کامیاب فلمیں ہیں جن میں روبوٹس کی اداکاری نے تہلکہ مچادیا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے شہنشاہ رجنی کانت کی تامل فلم ”روبوٹ“ جس کی ہندی زبان میں ڈبنگ کی گئی تھی 2010 میں ریلیز کی گئی۔ فلم کا مرکزی کردار اور موضوع روبوٹ ٹیکنالوجی ہی ہے۔ اس فلم میں روبوٹ کے روپ میں رجنی کانت کو دکھایاگیا ہے۔
ایک ارب روپے سے زائد کی لاگت سے 2011 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ کے کنگ خان کی فلم ” را ون“ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس فلم میں بھی روبوٹ کو شاہ رخ خان کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
باصلاحیت اداکارہ ہریتھک روشن کی فلم ”کوئی مل گیا “بھی روبوٹک ٹیکنالوجی کا استعمال نظر آتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بھارتی فلموں میں روبوٹک ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے استعمال میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
ہالی ووڈ کی وہ فلمیں جن میں روبوٹک ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا
بھارتی فلم انڈسٹری کے مقابلے ہالی ووڈ کی بیشمار ایسی فلمیں ہیں جن میں روبوٹک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے لیکن جاپانی فلم ’سیونارا‘ کو پھر بھی یہ اعزاز رہے گا کہ اس میں روبوٹک ہیروئن نے کام کیا ہے۔ہالی ووڈ کی 25 فلموں کو اس فہرست میں شمار کیا گیا ہے جنہیں ہر دور کی بہترین روبوٹک ٹیکنالوجی والی فلمیں کہا جاتا ہے۔
ہالی ووڈ کی مقبول ترین فلم”اسٹار روارز سیریز، ایکس مین، دی میٹرکس، ٹرمینیٹر، جنکس اسپیس کیمپ، میشن مینسچ، دی روبوکوپ، دی آئرن گینٹ اور شارٹ سرکٹ سمیت سمیت 25 ایسی روبوٹک ٹیکنالوجی والی فلمیں ہیں جسے ہر دور کی بہترین فلمیں قرار دیا گیا ہے۔
جاپانی فلم کے لئے روبوٹک ہیروئن تیار کرنے والے پروفیسر کے مطابق آئندہ سالوں میں فلم انڈسٹری میں روبوٹک ہیروئنز سمیت روبوٹک ہیروز اور ولیمز کا استعمال بڑھ جائے گا۔