تازہ ترین سرخیاں
 شوبز 
5 نومبر 2015
وقت اشاعت: 9:48

انتہا پسندی کی انتہا،کنگ خان بھی لپیٹ میں آگئے

جیو نیوز - کراچی......مشتاق احمد سبحانی......بھارت میں انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے عام ہندووٴں اور مسلمانوں کے خلاف تشدد، پھرپاکستانی فنکاروں،اداکاروں اور کھلاڑیوں کو بھارت میں کارکردگی کے مظاہروں سے روکنے، پاکستان کے سابق وزیرِخارجہ کی کتاب کی رونمائی کی تقریب منسوخ اورپاکستان و بھارت کے کرکٹ بورڈ ز کے درمیان مذاکرات ناکام بنانے کی کوششوں کے بعد اب انتہا پسندی کی یہ آگ ان کے اپنے ملک کے مسلمان اداکاروں کو لپیٹ میں لینے لگی ہے۔ان میں بالی وْوڈکے سپرا سٹارشاہ رْخ خان اس کا پہلا شکار بنے ہیں۔

شاہ رخ خان جو اپنے پرستاروں میں”کنگ خان“ کے نام سے معروف ہیں، انہوں نے 2نومبرکوبھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کی مذہبی عدم برداشت بدترین صورتِ حال ہے جو بھارت کو جہالت کے اندھیروں میں لے جائے گی۔

انہوں نے یہ با ت اپنی پچاس ویں سالگرہ کے موقع پر بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ گو شت کھانے کی عادتوں سے کسی کے مذہب کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ میرے گھر میں ہر شخص کو مذہبی آزادی ہے۔میں مسلمان ہوں مگر دیوالی کے موقع پرہمارے گھر میں میٹھی ڈِش تیار کی جاتی ہے اور میں خود ’پوجا‘ میں حصّہ لیتا ہوں۔

کنگ خان نے مزید کہا کہ وہ بھارت میں پیدا ہونے والے بھارتی اداکار ہیں۔”مجھ سے میری حب الوطنی کا ثبوت مانگنا میری توہین اور بے عزتی ہے۔کوئی بھی مجھ سے زیادہ اس ملک میں رہنے کا حق نہیں رکھتا اور میں اس ملک کو چھوڑ کر کہیں نہیں جارہا“۔

انہوں نے انتہا پسندوں کے رویئے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایوارڈز اور اعزازات واپس کئے جانے کی مہم کی حمایت کرتے ہوئے اسے دلیرانہ قرار دیا اور کہا کہ جو کوئی بھی تخلیقی کام کرنے والوں کو دھمکیاں دے گا اسے شدید ردّعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔

شاہ رْخ خان کا یہ شدید ردّعمل پہلی مرتبہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ جنوری 2013ء میں بھی انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کانام نہاد سیکولرکا چہرہ یہ کہہ کر بے نقاب کیا کہ وہ ایک ہندواقتدار والے ملک میں مسلمان پیدا ہونے پر دْکھ محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے اْس وقت یہ انکشاف بھی کیا کہ نائن الیون کے بعد کئی بھارتی لیڈروں نے اْن پر زور دیا تھا کہ وہ بھارت چھوڑ دیں اور اپنے آبائی ملک پاکستان چلے جائیں۔

بعد میں ایک بھارتی رسالے کے لئے لکھے گئے اپنے مضمون میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو ملک کا وفادار نہیں سمجھا جاتا۔ اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جب مجھ پر یہ الزام لگتا ہے کہ میں اپنے ملک سے زیادہ پڑوسی ملک (پاکستان) سے لگاوٴ رکھتا ہوں حا لانکہ میں بھارتی ہوں جس کے والد نے آزادی ہندکے لئے جدوجہد میں حصّہ لیا تھا۔ میرے خلاف مظاہرے کئے گئے جن میں سیاسی رہنماوٴں نے مجھے میرے ”اصلی“ملک میں واپس جانے پرزور دیا۔

شاہ رْخ خان نے انکشاف کیا تھا کہ ”میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام آریان اور سْہانہ رکھے جو بھارتی اور ہندووانہ ہیں لیکن میں اپنے نام سے خان کو واقعی نکال نہیں سکتا۔مجھے ایک مرتبہ ایک امریکی ائیرپورٹ پر کئی گھنٹوں تک محض اس لئے روکا گیا کہ میں اپنے نام کے ساتھ لگے ہوئے ’خان‘ کی وضاحت کروں۔ بعد میں مجھے اس کی وضاحت کے لئے فلم ”مائی نیم از خان“بنانی پڑی۔

کنگ خان کے ٹی وی انٹرویو پرملک بھر میں متضاد آراء کا اظہار کیا گیا۔ سینئر بی جے پی لیڈر کیلاش وجیورگیا نے ، نے شاہ رْخ خان پر ان الفاظ میں حملہ کیا کہ ’’وہ رہتے بھارت میں ہیں مگر ان کا دل پاکستان میں ہے۔ ان کی فلمیں کروڑوں روپے کما تی ہیں لیکن انہیں بھارت میں عدم برداشت نظر آتا ہے‘‘۔

شاہ رْخ پر حملوں میں بی جے پی کے کئی اور رہنما بھی شریک ہو گئے جن میں سدہوی پراچی، منوج تیواری اور یوگی ادتیہ ناتھ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تاہم کیلاش وجیورگیانے کے بیان کی مذمت خود انہی کی پارٹی کے کئی رہنماؤں اور کانگریس کے لیڈرز نے کی جن کے ساتھ سوشل میڈیا پر اس بیان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔ کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس پرشاہ رْخ خان سے معافی مانگیں۔

آخرکار بھارت بھر میں ہونے والے شدید ردعمل کے پیش نظر کیلاش وجیورگیا نے، نے اپنے بیان سے درستبردار ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کے بیان کو غلط اندازسے لیا گیا جبکہ ان کا مقصدکسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.