17 نومبر 2015
وقت اشاعت: 14:20
معروف صدا کار، اداکار شفیع محمد کو بچھڑے 8 برس بیت گئے
جیو نیوز - کراچی......اویس عالم ......پاکستان کے ممتاز اداکار شفیع محمد شاہ کو ہم سے بچھڑے آٹھ برس بیت گئے۔ شفیع محمد شاہ کا شمار ٹیلی وژن کے ان ورسٹائل فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے انداز،آواز اور اداکاری کے وہ ان مٹ نقوش چھوڑے جس نے انہیں امر کردیا۔
سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر کنڈیارو میں 1949ء میں پیدا ہونے والے شفیع محمد نے اپنی پوری زندگی سخت محنت کو اپنے فن کا تاج بنا کر رکھا۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے اور حیدر آباد سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
فنی دنیا میں ان کی آمد بحیثیت صدا کار ہوئی اور طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے منسلک رہے۔انھوں نے 70 کی دہائی میں ٹیلی وژن پر ’’اڑتا آسمان‘‘ نامی ڈرامے میں ایک چھوٹا کردار ادا کرکے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ تاہم ہرکردارمیں جان ڈال دینے کی صلاحیت نے جلد ہی انہوں نے اپنا لوہا منوایا اور ڈرامہ سیریل ’’تیسرا کنارہ‘‘ ان کی شہرت کی وجہ بنا اور وہ پاکستان کے ہر گھر کے جانے پہچانے شخص بن گئے۔ اس کے بعد ڈرامہ سیریل ’’آنچ‘‘ نے انھیں مقبولیت کے بامِ عروج پر پہنچا دیا۔اس کےعلاوہ ’’چاند گرہن، دائرے، دیواریں، جنگل، بند گلاب، کالی دھوپ، ماروی، تپش اورمحبت خواب کی صورت ‘‘جیسے مقبول عام ڈرامے ان کی فنی شناخت تھے۔
اپنے 30 سالہ کریئر میں شفیع محمد نے 50 سے زائد ڈرامہ سیریلز میں کام کیا جب کہ 100سے زائد ایک قسط کے اردو و سندھی ڈراموں میں بھی وہ نظر آئے۔ انھوں نے8 فلموں میں بھی کام کیا۔ شفیع محمد کو جملوں کی ادائیگی میں کمال حاصل تھا، اپنی منفرداورپررعب آواز کے ذریعے ان کی شہرت جلد دور دور تک پھیل گئی۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انھیں1985ء میں پاکستان ٹیلی ویژن نے بہترین اداکار کے ایوارڈ جب کہ حکومت پاکستان نے تمغہ حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا۔2006ء کے وسط میں شفیع محمد شاہ بیمار ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بھاری بھر کم شخصیت والا یہ شخص اچانک کمزور نظر آنے لگا۔17 نومبر 2007 ء کو اداکاری کو نئی جہت دینے والا یہ روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔