24 نومبر 2015
وقت اشاعت: 11:48
عدم برداشت کی حد، فنکار وں کا بھارت چھوڑنے پر غور شروع
جیو نیوز - کراچی......عاقب علی......بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دنیا بھر میں بھارت کی پہچان بننے والے فلم اسٹار عامر خان اورا ن کی اہلیہ فلم ڈائریکٹر کرن راؤ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ملک چھوڑنے کوبہتر خیال کرتے ہیں۔
عامر کے انکشاف سے ہلچل
عامر خان کو ان کی اہلیہ کرن راؤ نے بھارت میں روز بہ روز بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے واقعات سے تنگ آکر ملک چھوڑ نے کا مشورہ دیا تھا۔کرن راوٴ کے ان خیالات کا اظہار عامر خان نے گزشتہ روز ایک تقریب میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا تو اس انکشاف پر بھارت میں ہلچل مچ گئی۔
کرن راوٴ نے آخر ایسا کیا کہا؟
عامر خان نے کرن کے خیالات شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرن گزشتہ 8ماہ کے دوران تیزی سے بڑھنے والی انتہا پسندی سے خوف زدہ ہیں۔وہ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں اورانہیں بھارت چھوڑ نے کا مشورہ دے رہی ہیں۔عامر خان کا کہنا تھا کہ اس قدری تیزی سے بڑھتی انتہا پسندی کی با اختیار افرادکی جانب سے زبردست مذمت ہونی چاہیے۔
عامر خان عتاب کا شکار
بھارت کے چوتھے اور تیسرے بڑے سول ایوارڈز’پدم شری‘ اور’ پدم بھوشن‘ حاصل کرنے والے فلم اسٹار نے اپنے بیان میں مذہب کے نام پر تشدد کے خلاف آواز بلند کی تو گویا ایک بھونچال آگیا اور فلم انڈسٹری کو کئی بڑی فلمیں دینے والے عامر خان کی طرف انگلیاں اٹھائی جانے لگیں۔ انہیں فلموں اور اشتہاروں میں کام نہ کرنے کابھی مشورہ دیا گیا۔
’بھارت بچاوٴ مارچ‘
بھارتی وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کے حامی فنکاروں کی جانب سے پہلے بھی ایسی صورتحال کو سازش قرار دیتے ہوئے ’مارچ فار انڈیا‘ ہوچکا ہے جس پر بالی ووڈ کے ایک اورعظیم اسٹار شاہ رخ خان نے مذہب کی بنیاد پر بڑھتی عدم برداشت اور پرتشدد کارروائیوں کی مخالفت کی تھی اور پیار اور محبت سے رہنے کی بات کی تھی۔
بھارت میں’آزادی‘ سمٹنے لگی؟
سینئر صحافی راجن عظیم نے موجودہ حکومتی پالیسی کے خلاف لکھا ہے کہ ”اگر عامر بغیر گالی سنے کھل کر اپنی بات بھی نہیں کہہ سکتے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے اور آزادی سمٹ رہی ہے۔“
فلم انڈسٹری دو گروپس میں تقسیم
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری انتہاپسندی اور وزیراعظم مودی کی اقلیتوں کے حوالے سے جاری پالیسیوں پر دو گروپس میں تقسیم ہوچکی ہےجن میں انتہاپسندی کے مخالف گروپ میں شاہ رخ خان، شبانہ اعظمیٰ اور عامر خان سمیت کئی ہندو فنکار بھی شامل ہیں جبکہ مودی کی حمایت میں انوپم کھیر، ودیا بالن سمیت کئی اداکار آواز بلند کر رہے ہیں۔
عدم برداشت اور انتہا پسندی کے 17ماہ
26مئی 2014 ءکو وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھانے و الے نریندر مودی کی اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں میں اضافہ ہوا ہے۔سیکولر کہے جانے والے بھارت میں 17ماہ سے عدم برداشت،انتہا پسندی،شیو سینا سمیت تشدد پسندجماعتوں اور رہنماوٴں کو کھلی چھٹی ملنا اور اقلیتوں سے کئے گئے ناروا سلوک آج بھی زیر بحث ہیں۔