تازہ ترین سرخیاں
 شوبز 
21 دسمبر 2015
وقت اشاعت: 16:19

عراق میں بارود، دھویں،دھمکیوں کی فضا میں مقابلۂ حسن

جیو نیوز - بغداد.....شوکت علی پیرزادہ......بارود ،دھویں اور دھمکیوں کی فضا میں مقابلہ حسن کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا لیکن عراق میں زندگی پھر مسکرائی اور 1972ءکے بعد تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ایک بار پھر مقابلہ حسن منعقد ہوا۔

عراق میںگزشتہ روز ہونے والے مقابلہ حسن میںمس عراق کا چنائو ہوا۔جس میں جیوری نے شمالی عراق کے شہر کرکوک کی سبز آنکھوں والی حسینہ شائما عبدالرحمان قاسم کو مس عراق منتخب کرلیا۔

ویسے تو یہ مقابلہ حسن بصرہ میں ہورہا تھا تاہم مقامی قدامت پسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد اسے آخری لمحات میں دارلحکومت بغداد منتقل کردیا گیا، اس دوران مقابلے میں شریک دو حسینائوں کو ان دھمکیوں کے بعد مقابلے سے دستبردار ہونا پڑا۔

مقابلے کے لیے عراق بھر سے 8حسینائیں منتخب ہوکر آئی تھیں اور بغداد میں موجود جیوری کو ان میں سے کسی ایک حسینہ کو مس عراق قرار دینا تھا، بعدازاں سخت مقابلے کے بعد شائما عبدالرحمان قاسم کو مس عراق قرار دیا گیا۔ اب یہ منتخب حسینہ مس یونیورس میں عراق کی نمائندگی کریں گی۔

مقابلے کے دوران مقامی ثقافت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سوئم سوٹ واک کی اجازت نہ تھی، جبکہ حسینائوں نے شام کو زیب تن کیے جانے والے ایسے لباس کا انتخاب جو کہ گھٹنوں سے نیچے تک تھا اور اس میں مقامی اور اسلامی ثقافت کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا تھا۔

اپنے انتخاب کے بعد شائما عبدالرحمان قاسم نے کہا کہ وہ اپنے جنگ سے تباہ شدہ ملک میں فروغ تعلیم کے لیے جدوجہد کریں گی تاکہ عراق میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ اب عراق تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے،یہ ایونٹ بہت بڑا تھا، اور اس کی وجہ سے عراقیوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی ہے۔مقابلہ حسن کے آرگنائزر کا کہنا تھا کہ کس نے کہا کہ عراق والے زندگی سے محبت نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ عراق میںیہ 1972ءکے بعد یعنی 43برس بعد ہونے والا مقابلہ حسن ہے، 1972ءمیں پہلی اور آخری بار یہ مقابلہ ہوا تھا کہ جس کے بعد سابق مردآہن صدام حسین کے کزن اور اس وقت کے عراقی صدر احمد حسن البکر نے اس پر پابندی لگا دی تھی،بعدازاں صدر صدام حسین نے یہ پابندی جاری رکھی۔





متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.