11 جولائی 2014
وقت اشاعت: 12:5
پی سی بی کا آئین اوراعلامیہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے،سپریم کورٹ
جیو نیوز - اسلام آباد.....سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی سی بی کا نیاآئین اور اعلامیہ مکمل طورپر غیر قانونی ہے ۔ چیرمین پی سی بی تقرری کیس میں جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کااظہار کرتےہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کس قانون کےتحت آپ نے یہ آئین بنایا ۔ کیا آپ عدالت کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں ۔چیرمین پی سی بی تقرری کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے کی ، اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ گورننگ باڈی کو چلنے دیا جائے، جو عبوری سیٹ اپ بناہے۔ اسے جوں کاتوں رکھا جائے۔ اس پر جسٹس ثابق نثار نے کہاکہ پی سی بی کا آئین اوراعلامیہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کےفیصلے کےبعداس اعلامیےکی گنجائش نہیں تھی۔اٹارنی جنرل کا کہناتھاکہ انہوں نے پی سی بی کا آئین بہت موزوں اور حساسیت کے ساتھ بنایا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت آپ نے یہ آئین بنادیا۔کیا آپ عدالت کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ ابھی عدالت میں کیس چل رہاہے آپ نے پی سی بی کا آئین جاری کردیا۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ اگرنجم سیٹھی اور ذکااشرف دونوں کوگورننگ باڈی کاممبربنادیاجائے توآپکاکیاخیال ہے۔اس پر ذکا اشرف کے وکیل نےکہاکہ وہ ایسے سیٹ اپ پر راضی ہیں ، تاہم اٹارنی جنرل نے مو قف اپنایا کہ پی سی بی کے آئین میں اسکی گنجائش نہیں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ ذکااشرف اور نجم سیٹھی دونوں کو گورننگ باڈی میں شامل کرلیں،جو اکثریت حاصل کرلے ۔وہ چیئرمین پی سی بی بن جائے، نجم سیٹھی سے پوچھ لیتےہیں کہ کیا وہ رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑنے کے لئےراضی ہیں۔اس پر نجم سیٹھی نے کہاکہ یہ ان کا اور ذکا اشرف کا معاملہ نہیں۔انہیں یہ عہدہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ انہوں نے تو وزیر اعظم کے کہنے پر بڑے تذبذب کے ساتھ یہ عہدہ قبول کیا۔ اگر ان کی وجہ سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو انہیں عہدہ چھوڑنے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن وزیراعظم چاہتے ہیں کہ وہ پی سی بی میں شامل رہیں ، اور اگر وزیراعظم نے کہاتو وہ پی سی بی کے انتخابات بھی لڑیں گے ۔اس پر جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھاکہ کیوں نہ ہم پی سی بی کے اعلامیے کو معطل کردیں اور عدالتی چھٹیوں کے بعد اس کیس کو سنیں۔