تازہ ترین سرخیاں
 کھیل 
25 فروری 2011
وقت اشاعت: 11:21

’جیسے دہشت گرد پکڑ لیے ہوں‘

بی بی سی اردو - پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ میڈیا نے پاکستانی کرکٹرز کو اس طرح پیش کیا جیسے کوئی دہشت گرد پکڑے گئے ہوں۔

انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف لندن پولیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ دوسری جانب کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی نے بھی اِن کرکٹرز کو معطل کررکھا ہے اور اُن کی اپیلوں کی سماعت تیس اور اکتیس اکتوبر کو قطر میں ہونے والی ہے۔

سلمان بٹ نے اس ضمن میں ممتاز قانون دان خالد رانجھا کی خدمات حاصل کی ہیں اور اُن کی معاونت سابق ٹیسٹ کرکٹر آفتاب گل کررہے ہیں۔

سپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں معطلی کا سامنا کرنے والے سابق کپتان سلمان بٹ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

انہوں نے بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس کیس کے بارے میں زیادہ بات کرنا نہیں چاہتے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرکے دوبارہ پاکستان کے لیے کھیلیں گے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ ’ماضی میں اِس سے زیادہ بڑے واقعات رونما ہوئے لیکن میڈیا میں پاکستانی کرکٹرز کے معاملے کواس قدر بڑھا چڑھاکر پیش کیاگیا کہ جیسے اللہ معاف کرے دہشت گرد پکڑے گئے ہوں‘۔

سلمان بٹ کا کہنا ہےکہ یہ محض الزام ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد کلیئر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ سڑک پر کوئی رونا شروع کردے کہ اس نے مجھے مارا ہے لیکن جب میں نے مارا ہی نہیں تو پھر؟‘

انہوں نے بتایا کہ خالد رانجھا ملک کے ممتاز قانون دان ہیں لہذا انہوں نے اُن کی خدمات حاصل کی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ رانجھا صاحب اس کیس میں کامیاب ہونگے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ معطلی کے باوجود انہوں نے اپنی ٹریننگ نہیں چھوڑی اور وہ باقاعدہ سے فیلڈنگ اور بیٹنگ کی پریکٹس کررہے ہیں اور خود کو فٹ رکھے ہوئے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.