25 فروری 2011
وقت اشاعت: 11:21
پاکستانی کرکٹ کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری
بی بی سی اردو - پاکستان کرکٹ بورڈ نے نٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو شفاف بنانے کی وارننگ کے بعد ٹیم کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینجر انتخاب عالم نے اس نئےضابطہ اخلاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم میں شامل ہر کھلاڑی کو اس ضابطہ کو ماننا ہوگا وگرنہ ان کی ٹیم میں شمولیت ناممکن ہو جائے گی۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم اگلے ہفتے سے متحدہ عرب امارات کے ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیلنے کے متحدہ عرب امارات روانہ ہونے والی ہے۔ ٹیم کے مینجر نے کہا متحدہ عرب روانگی سے قبل ہر کھلاڑی کو اس ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنے ہوں گے۔
پاکستان کےگزشتہ دو دورے انتہائی مشکل ثابت ہوئے ہیں۔ پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے دوروں کے دوران پاکستان ٹیم مسلسل اندرونی خلفشاراور مختلف تنازعوں میں گھری رہی۔ دورہ انگلینڈ کے دوران ٹیم کے کپتان سلمان بٹ سمیت تین کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے الزمات لگائےگئے جن کی روشنی انٹرنینشل کرکٹ کونسل نے انہیں معطل کر رکھا ہے۔
تینوں کھلاڑیوں نے عبوری معطلی کے خلاف علیحدہ علیحدہ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جن کی ابتدائی سماعت تیس اور اکتیس اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوہا ہو گی۔ آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کمیشن کے ممبر مائیکل بیلوف ان اپیلوں کی سماعت کریں گے۔
انتخاب عالم نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ نیا ضابطہ اخلاق ڈومیسٹک ٹورنامنٹوں پر بھی لاگو ہو گا۔
اس ضابطہ اخلاق کی روشنی میں کھلاڑیوں کو ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کھلاڑی موبائل فون کا استعمال نہیں کر سکیں گے اور ڈسلپن کی خلاف ورزی کے مرتکب کسی بھی کھلاڑی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
اس ضابطہ اخلاق کی روشنی میں کوئی غیر مطلعقہ شخص ڈریسنگ رومز میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
انتخاب عالم نے کہا نیا ضابطہ اخلاق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی طرف پہلا قدم ہے۔
انتخاب عالم نے کہ کھلاڑیوں کو اینٹی کرپشن کے قوانین کے حوالے مزید آگاہی دی جا رہی ہے۔
گزشتہ روز ٹیم کو ڈیڑھ گھنٹے کے ایک سیشن میں کھیل میں کرپشن، ممنوعہ ادویات کے استعمال کے مضمرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور انہیں امید ہے کہ کھلاڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔
انتخاب عالم نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔