5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مائیک مولن نے بھارت کے معاملے پر پاک فوج کو حقیقی فیصلہ ساز قرار دیا، وکی ولیکس
جنگ نیوز -
واشنگٹن…امریکی ایڈمرل مائیک مولن نے بھی مہر لگادی کہ بھارت کے معاملے پر حقیقی فیصلہ ساز پاک فوج ہے جبکہ صدر زرداری کی صلاحیت محدود ہے ۔ دو ہزار نو کے دوران لندن میں ہوئی ملاقات میں ایڈمرل مولن اور اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اتفاق کیا تھا کہ پاکستان میں انتہا پسندی کیخلاف جنگ کا افغانستان کے نتائج سے قریبی تعلق ہے ۔وکی لیکس کے پنڈورا باکس سے حیران کن انکشافات رکنے کا نام نہیں لے رہے ۔ سات اکتوبر دو ہزار نو کو لندن میں امریکی پولیٹیکل قونصلرRobin Quinvilleنے واشنگٹن کو مراسلہ بھیجا جس میں اُس وقت کے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن اور امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کی ستمبر کی پہلی اور دوسری تاریخ کو ہونیوالی ملاقاتوں کا احوال بتایا گیا ۔ ملاقات میں یورپی اتحادی کمان کے سپریم کمانڈر ایڈمرلStavridis ، ایساف کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سمیت دیگر عہدیدار بھی شریک تھے ۔ ملاقات کے دوران جب گورڈن براؤن نے یہ کہا کہ طالبان کیخلاف جنگ میں پاکستان کی توجہ زیادہ مرکوز کرانے کیلئے ضروری ہے کہ پاک بھارت امن عمل کو تیز کیا جائے ، اس سے پاک بھارت کشیدگی کم اور طالبان کیخلاف لڑائی پر پاکستان کا دھیان زیادہ ہوگا ۔ اس سلسلے میں گورڈن براؤن نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو امن پسند شخصیت قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور برطانیہ کو چاہیئے کہ من موہن سنگھ سے رابطے میں رہنے کیلئے صدر زرداری پر زور دیتے رہیں جس پر امریکی ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ زرداری کی صلاحیت محدود ہے ، پاکستان میں حقیقی فیصلہ ساز پاک فوج ہے ۔ ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران اگرچہ دہشت گرد خطرات سے نمٹنے میں پاکستان کی کارکردگی میں کافی بہتری آئی ہے تاہم مزید کوششوں کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر گورڈن براؤن نے کہا کہ اگر پاکستانی ،،، ہم اتحادیوں کو افغانستان میں زیادہ کوششیں اور اقدامات کرتا دیکھیں گے تو وہ بھی اپنی سرزمین پر طالبان کیخلاف زیادہ کارروائی کریں گے ۔