5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
پی سی او ججز پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کا معاملہ 7مارچ تک موٴخر
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کی جانب سے تین نومبر کے اقدام کی توثیق نہ کئے جانے کے بعد پی سی او ججزکی قانونی حیثیت سے متعلق حکومت سے جواب مانگ لیا ہے جبکہ پی سی او ججوں پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سے متعلق معاملہ7مارچ تک موخر کر دیا گیاہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں7 رکنی لارجر بنچ نے توہین عدالت کیس میں پی سی او ججوں کی انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کی۔سپریم کورٹ کے غیر فعال جج زاہد حسین کے وکیل ایس ایم ظفر نے موقف اختیار کیا کہ جن ججز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا رہی ہے وہ آپ کے ساتھی جج ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں ان کا احترام ہے لیکن کیا وہ معزز افراد اب بھی جج ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین بحال ہونے کے بعد پی سی او ججز نے آئین کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور اب وہ بظاہر اعلیٰ عدلیہ کے جج نہیں رہے ۔چیف جسٹس نے ایس ایم ظفر سے استفسار کیا کہ18ویں آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ نے تین نومبر کے اقدام کی توثیق نہیں کی ایسی صورت میں اس غیر آئینی اقدام سے فائدہ اٹھانے والے جج کہلا سکتے ہیں؟ ۔ماضی میں پارلیمنٹ ایسے اقدامات کی توثیق کرتی رہی ہے مگر موجودہ پارلیمنٹ نے نہیں کی جو قابل ستائش ہے۔ پی سی او ججوں کی انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت تین مارچ تک ملتوی کر دی گئی ۔