5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
لیبیا میں حکومت کے تشدد کے خلاف بنگلہ دیش میں لیبیاکے سفیر مستعفی
جنگ نیوز -
تریپولی . . . . . لیبیا میں حکومت کے تشدد کیخلاف بنگلہ دیش میں تعینات لیبیا کے سفیر نے استعفیٰ دیدیا ہے۔جبکہ لیبیا میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال سے فورسز کے انکار اور ساتھیوں کی بے وفائی کے بعد اقتدار پر معمرقذافی کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے ،گوکہ ملک سے ان کے فرار کی اطلاع غلط ثابت ہوگئی ہے لیکن اس انکشاف نے مظاہرین کے غم و غصے کو بڑھادیا ہے کہ نہتے عوام پر فائرنگ کرائے کے سپاہیوں سے کرائی گئی ۔ لیبیا کے حکمران68سالہ معمر قذافی41 سال سے حکومت کررہے ہیں ۔ لیکن اب اقتدار ان کے ہاتھ سے اسی طرح نکل رہا ہے جس طرح مٹھی سے ریت نکلتی ہے ۔ مظاہرین پر فائرنگ اور بمباری کی اطلاعات کے بعد ملک اور بیرون ملک قذافی کے ساتھی ایک ایک کرکے ان کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں ۔ بھارت میں لیبیا کے مستعفی سفیر علی ال عیساوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ اور لڑاکا طیاروں کی بمباری کے سبب استعفیٰ دیا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو کچلنے کے لئے کرائے کے افریقی سپاہی استعمال کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے متعددلیبیائی فوجی مظاہرین سے مل گئے ہیں ۔ کرائے کے سپاہیوں کا الزام طرابلس کے شہریوں نے بھی لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہیلی کاپٹرز میں فاشلوم آئے تھے اور اندھا دھند فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ تاہم لیبیا کے سرکاری ٹی وی نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز عوام کا قتل عام کررہی ہیں ۔سرکاری ٹی وی پر قذافی کے نمودار ہونے کے بعد ان کے وینزویلا جانے کی افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں ۔ انہوں نے طرابلس میں اپنے گھر کے باہر بائیس سیکنڈ کی مختصر گفت گو میں کہا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں فوج کی طرف سے بغاوت کے بعد مظاہرین کا راج ہے ۔ اس کے علاوہ سِرتے ، تبروک ، مِصرات ، خُمس ، تَرھونا ، زینتین Zenten، الزاویہ اور ضوارا کے علاقے بھی مظاہرین کے کنٹرول میں ہیں ۔ دوسری جانب آسٹریلیا ، ملائیشیا ، بھارت ، اقوام متحدہ اور عرب لیگ میں لیبیا کے سفارت کاروں حکومت سے تعلق ختم کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے نہیں لیبیائی عوام کے نمائندے ہیں۔ اس کے ساتھ لیبیا کی حکومت پر عالمی دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ لیبیا کی صورت حال پر غور کے لئے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس آج طلب کرلئے گئے ہیں ۔