تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48

لیبیا: فسادات کا سلسلہ جاری ، زوایہ میں رات گئے50 افراد ہلاک

جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا میں فسادات کا سلسلہ جاری ہے ۔شہر زوایہ میں رات گئے جھڑپیں،50 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ۔ امریکا کا کہناہے کہ قذافی کو چاہیئے کہ اب حکومت چھوڑ دیں۔سلامتی کونسل کی قرار داد پر ووٹنگ کچھ دیر بعد ہو گی ۔ لیبیاکے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔۔کئی شہروں میں حکومت کی حامی فورسزاورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔مخالفین کوگولیوں کانشانہ بنایاجارہاہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز زاویہ میں معمر قذافی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کے دوران 50 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم بن غازی میں فورسزکے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوان کی تدفین میں حکومت کے خاتمے تک مظاہرے جاری رکھنے کے عزم کااظہارکیاگیا۔معمرقذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے خبردارکیا ہے کہ حالیہ انتشارملک میں خانہ جنگی کا سبب بن سکتاہے۔عرب ٹی وی کوانٹرویو میں انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حالات یہی رہے توغیرملکی مداخلت کا امکان بڑھ جائے گا اوراس کے آثارنظرآنا شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی صدرباراک اوباما نے ایک بیان میں کہاہے کہ لیبیاکے رہنما معمرقذافی کو اقتدارچھوڑدینا چاہئ۔اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد وہ حکمرانی کاقانونی حق کھوچکے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ بن غازی میں لیبیاکے مستعفی وزیرانصاف مصطفی محمدعبدالجلیل کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کردی گئی ہے۔اورانھوں نے تین ماہ میں آزادانہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔لیبیا بھرمیں خوف ودہشت کی فضا چھائی ہوئی ہے اوربڑے پیمانے پرخون خرابے کے بعد غیرملکیوں کے انخلا کاآغاز ہوگیا ہے۔برطانیہ اورفرانس نے عارضی طورپرطرابلس میں اپنے سفارت خانے بندکردیے ہیں اورسفارتی عملہ وطن واپس روانہ ہوگیا ہے جبکہ برٹش ملٹری کے دوطیارے ڈیڑھ سو برطانوی شہریوں کولے کرمالٹا پہنچ گئے ہیں۔ایرانڈیاکی ایک پروازتین سوبھارتی شہریوں کولے کرنئی دہلی پہنچی جہاں سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ نے ان کا استقبال کیا۔جہازرانی کے وزیرجی کے واسان نے کہا ہے کہ ایک بحری جہاز ممبئی سے بن غازی کے لیے روانہ ہوچکاہے جوستائیس فروری کووہاں پہنچے گااورتین ہزاربھارتی شہریوں کولے کے اسکندریہ جائے گا۔ تقریباً اڑتیس ہزار تیونسی اورمصری شہری لیبیا کی سرحد پارکرکے تیونس میں داخل ہوگئے ہیں۔ تیونس میں صدربن علی کے اقتدارکے خاتمے کے باوجود سیکیورٹی فورسزاورمظاہرین میں تصادم کے واقعات ہورہے ہیں۔آج ایک جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور بارہ افرادزخمی ہوئے جبکہ سو افرادکوگرفتارکرلیا گیا۔یمن میں بھی صدرعلی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے۔ عدن میں سیکیورٹی فورسزسے جھڑپ میں پانچ افرادکی ہلاکت کے خلاف صنعامیں ہزاروں افرادنے احتجاج کیا۔۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.