5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
لیبیا کے حکمراں معمر قذافی نے سلامتی کونسل کی پابندیاں مسترد کردیں
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا کے حکمراں معمر قذافی نے سلامتی کونسل کی پابندیاں مسترد کردیں البیدہ شہر میں قذافی کی املاک لوٹ لی گئی۔ زاویہ پرباغیوں نے کنٹرول حاصل کرلیا۔عمان میں بھی حکومت مخالفین سڑکوں پرآگئے۔بحرین اوریمن میں مظاہرے جاری ہیں۔لیبیاکے حالات دن بدن خراب سے خراب ترہوتے جارہے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات کی وجہ سے تقربیا ایک لاکھ سے زائد افراد ہمسایہ ممالک منتقل ہوچکے ہیں ۔فورسز اورمظاہرین میں گھمسان کی لڑائی کے بعدبن غازی ،زاویہ اورالبیدہ برباغیوں کا کنٹرول ہے۔زاویہ میں حکومت مخالفین کے قبضے کے بعدشہریوں نے ریلیاں نکالیں اورنمازشکرانہ اداکی۔البیدہ میں معمرقذافی کی املاک لوٹ لی گئی۔لوگ قذافی کے محل نما گھرمیں داخل ہوگئے ۔فرنیچر، بجلی کے آلات اورباتھ رومزکے ٹب تک اکھاڑکرلے گئے۔اطالوی ٹی وی کے مطابق اس گھرکے تہہ خانے میں رہاشی کمرے اوران کی حفاظت کے لیے ایک بنکر بھی بنا ہواہے۔گھرکی چھت پرہیلی پیڈاوراحاطے میں ایک چھوٹا چڑیا گھربھی ہے ۔یہ گھر قذافی خاندان کی پناہ گاہ اوربدترین حالات میں فرارکاذریعہ بن سکتاتھا۔اس صورت حال کے باوجود معمرقذافی کا دعویٰ ہے کہ لیبیا کے عوام ان کی حمایت کررہے ہیں صرف ایک چھوٹا گروپ بغاوت پرکمربستہ ہے جس کاگھیراؤ کرلیا گیا ہے اورجلد ہی ان سے نمٹ لیاجائے گا۔سربین ٹی وی کوایک انٹرویو میں انھوں نے سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کی قراردادبھی مستردکردی ہے۔خلیجی ریاست عمان میں بھی انقلاب کی گونج سنائی دے رہی ہے۔سوہارمیں جھڑپوں کے بعدمظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن کی عمارت کوآگ لگادی۔ اس دوران پولیس کی فائرنگ سے دوافرادجاں بحق اورپانچ زخمی ہوگئے۔بحرین میں مناما کے پرل اسکوائر سے کورٹ کی عمارت تک مارچ کیاگیا۔مظاہرین میں ڈاکٹر اورنرسیں بھی شامل تھیں۔جووزیراعظم کے استعفے کامطالبہ کررہے تھے۔یمن کے دارالحکومت صنعامیں بھی صدرعلی عبداللہ صالح کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔سترہ فروری سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک چوبیس افرادجان گنواچکے ہیں۔