5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
اسلام آباد میں شہبازبھٹی قتل، تحریک طالبان پنجاب نے ذمہ داری قبول کرلی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…وفاقی وزیر اقلیتی اموراوراقلیتی برادری کی سیاسی تنظیم آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے سربراہ شہباز بھٹی کووفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں قتل کردیاگیاہے۔ وہ اپنی ماں سے ملنے کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہو رہے تھے کہ دہشت گردوں نے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر نشانہ بنایا۔ وفاقی وزیراقلیتی امورشہباز بھٹی اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں اپنی رہائش گاہ سے نکل کروالدہ سے ملاقات کیلئے ان کے گھرگئے۔ بیٹے کو اپنی ماں سے ملنا ہوتا تو وہ سکیورٹی ساتھ نہیں رکھتا تھا، شاید اس لیے کہ ماں کو احساس دلا سکیں کہ وہ ایک وزیر کی حیثیت سے نہیں، ایک بیٹے کی حیثیت سے اپنی پیاری ماں سے ملنے آئے ہیں۔ شہباز بھٹی کی اپنی ماں سے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی ۔ والدہ سے ملاقات کے بعد وہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہوئے توآئی ایٹ مرکزکے قریب ایک موڑ پر موت ان کی منتظر کھڑی تھی ۔ سفید رنگ کی مہران میں سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور ان کی شناخت کر کے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور فرار ہو گئے ۔ان کو فوری طور اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔تحریک طالبان پنجاب نے وفاقی وزیر کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ شہازبھٹی کے ڈرائیورکاکہناہے کہ وفاقی وزیرکے ساتھ پولیس حفاظتی دستہ موجودنہ تھا بلکہ ان کے دفتر میں ان کا انتظار کر رہا تھا ۔ حملہ آوروں نے صرف وفاقی وزیرکونشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق شہباز بھٹی کو کافی عرصے سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انہوں نے بلٹ پروف گاڑی اور منسٹرز انکلیو میں سرکاری گھر کا مطالبہ بھی کیا تھا لیکن انہیں یہ نہیں مل سکا۔ دوسری طرف پولیس حکام کاکہناہے کہ وفاقی وزیرکوسکیورٹی ان ہی کی ہدایت پرفراہم نہیں کی گئی تھی۔ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی واقعہ کی اطلاع ملنے پروفاقی وزیرداخلہ کے ہمراہ اسپتال پہنچے اور قتل کے محرکات جاننے کیلئے مشترکا تحقیقاتی ٹیم بنانے کاحکم دیاہے۔ صدرآصف علی زرداری ، وفاقی کابینہ کے ارکان اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے تاہم سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اعلانات اور دعوے ہی کافی نہیں، حکومت کو دہشت گردوں کو لگام دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔