5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
قذافی نے حالات کی خرابی کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیدیا
جنگ نیوز -
طرابلس…کرنل قذافی نے ایک بار پھر کہا ہے لیبیا کے حالات خراب کرنے میں القاعدہ ملوث ہے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آخری آدمی تک القاعدہ کے خلاف لڑیں گے ۔طرابلس میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کرنل قذافی نے کہا کہ القاعدہ آہستہ آہستہ لیبیا میں پھیل رہی ہے ۔ قذافی کا کہنا تھا کہ ساری دنیا القاعدہ کو جانتی ہے ا ور ان کے رہنماؤں کے ناموں سے بھی واقف ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی شہر البیضا میں القاعدہ کے سیل نے فوجیوں پر حملہ کیا ۔ یہ ہی نہیں بلکہ پولیس اسٹیشن سے اسلحہ بھی اٹھا کر لے گئے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ البیضا میں فوجی گھروں کو چلے گئے اور اپنی بٹالین چھوڑ دی جس سے القاعدہ کو ہتھیارحاصل کرنے کا موقع ملا اور وہ شہر پر قابض ہو گئے۔ کرنل قذافی کا کہنا تھا کہ ایسے ہی حالات بن غازی میں پیدا ہوئے ہیں جہاں خواتین دربدر ہو رہی ہیں ، ہر طرف گولیاں چل رہی ہیں ۔ قذافی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بن غازی جیسا اہم شہر بھی باغیوں کے کنٹرول میں چلا گیا ہے ۔ کرنل قذافی نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ باغیوں کے خلاف آخری آدمی اور آخری عورت تک لڑیں گے ۔ کرنل قذافی کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں اور بعض دوسروں ملکوں سے حکومتی عہدے داروں کے استعفوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ یہ مغرب کا پروپگنڈہ ہے ، عوام ایسی باتوں پر یقین نہ کریں ۔ قذافی کا کہنا تھا کہ کسی کے مستعفی ہونے کی خبر طرابلس سے آئے گی باہر سے نہیں ۔معمر قذافی نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی کہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے ، لیبیا کی اصل طاقت عوام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ یا امن کا اعلان صرف امن کمیٹی کا اختیار ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ لیبیا میں سرکاری فورسز کی جانب سے ایک ہزار افرادکو قتل کرنے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنائے۔ وہ چاہے تو لیبیا میں اپنی ٹیم بھیج سکتی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔