5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کم معیار کا تیل لانے کا خدشہ،پی ایس او کا جہاز لنگر انداز نہ ہوسکا
جنگ نیوز -
کراچی…امپورٹ ایجنٹ گلینکور کی جانب سے کم معیار کا تیل لانے کا خدشے کے باعث پی ایس او کاجہازکراچی پورٹ پر لنگر انداز نہیں کیا جاسکا۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق 66 ہزار ٹن تیل کے جہاز میں کاربن کی مقررہ حد تقریبا 13 فیصد ہے جبکہ مقررہ حد کا معیار 12 فیصد ہے۔ انڈسٹری ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کی راس تانورا پورٹ پر پی ایس او کی جانب سے منظور شدہ کیمسٹ کے بجائے انسپیکٹوریٹ کمپنی سے تیل کی ٹیسٹنگ کرائی گئی جس نے اس تیل کو معیاری قرار دے دیا ۔ پی ایس او نے معیار ثابت نہ ہونے پر مزید ٹیسٹنگ کیلئے ایچ ڈی آئی پی کو دوبارہ رپورٹ تیارکرنے کا کہہ دیا ہے اور آج رات گئے یا کل صبح تک ٹیسٹ رپورٹ آجائے گی۔دوسری طرف پی ایس او ترجمان نے جیو نیوز کو بتایا ہے کہ راس تانورا پورٹ پر بلا اجازت انسپیکٹوریٹ کمپنی مقرر کرنے کا معاملہ گلینکور کمپنی کے ساتھ اٹھا رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق طے شدہ اصولوں کے مطابق ایچ ڈی آئی پی کی دوسری رپورٹ حتمی ہو گی ، انڈسٹری زرائع کے مطابق زائد کاربن مقدار کے باعث فی ٹن تقریبا 15 ڈالریا پورے جہاز پر تقریبا 10لاکھ ڈالر فرق کا فائدہ ہو سکتا ہے اور پاکستان میں متعدد مرتبہ معیار سے کم ایل پی جی یا تیل منگوا کر لاکھوں ڈالرز بنائے جاتے رہے ہیں۔