29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
10 سال میں امدادی کارکنوں پر حملوں میں 3 گنا اضافہ ہوا، اقوام متحدہ
جنگ نیوز -
نیویارک …اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس سال کے دوران امدادی کارکنوں پرحملوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ہر سال اوسطاً100 سے زیادہ کارکن اِن حملوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ زیادہ تر اموات افغانستان ، پاکستان اور صومالیہ میں ہورہی ہیں ۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر سے جاری کی گئی جو آزاد کمیشن نے اقوام متحدہ کیلئے تیار کی ہے۔رپورٹ کیمطابق افغانستان سے سوڈان تک جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارکنوں پر حملوں میں اضافے نے اُن کے کام کو مشکل ترین کاموں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ گذشتہ چار سال کے دوران ہر سال تقریباً چالیس امدادی کارکن اغوا کئے جارہے ہیں ۔ رپورٹ کی تیاری میں حصہ لینے والے اقوام متحدہ کے سابق چیف ہیومینیٹیرین کوآرڈی نیٹرجین ایگلینڈ کے مطابق سال دو ہزار پانچ سے اب تک افغانستان میں امدادی کارکنوں پر180 حملے، سوڈان میں150 اور صومالیہ میں تقریباً سو حملے ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا ، عراق ،پاکستان ، کانگو اور مقبوضہ فلسطینی علاقے امدادی کارکنوں کیلئے خطرناک جگہیں بن چکے ہیں ۔ جین ایگلینڈ نے شکایت کی کہ حکومتوں نے بھی اپنے مقاصد کیلئے امدادی کاموں کو عسکری اور سیاسی رنگ دیا ہے ۔