29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
سپریم کورٹ نے کمال اظفر کو این آر او نظرثانی کیس سے علیحدہ کردیا
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے وفاق کی طرف سے پہلے نامزد وکیل کمال اظفر کو دھمکیاں ملنے پر انہیں این آر او کے نظرثانی کیس سے الگ کردیا ہے، عدالت نے وفاق کو ایک اور مہلت دیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا ہے کہ وہ وفاق سے مزید ہدایات لیکر دلائل کیلئے پیش ہوں۔چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بنچ نے این آر او نظرثانی کیس کی سماعت کی ، وفاق کی طرف سے پہلے نامزد وکیل کمال اظفر نے عدالت کو بتایا کہ ابوبکرزرداری نامی وکیل نے انہیں کیس سے روکنے کیلئے ان کی اہلیہ کو فون کرکے دھمکی دی ہیں ، چیف جسٹس کے پوچھنے پر ابوبکرزرداری نے الزام کی تردید کی جبکہ عدالت نے آئی جی اسلام آباد واجد درانی کو بلاکر ان سے دھمکیوں کے معاملے پر تین دن میں رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے جب کے کے آغا کو وفاق کی طرف سے دلائل دینے کی ہدایت کی تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی انہیں نئی ہدایات نہیں ملیں ، اس کیس میں اٹارنی جنرل نوٹس پر ہیں اور وفاق ان سے رائے نہیں لے سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی قواعد و ضوابط چھوڑے نہیں جاسکتے، کے کے آغا دلائل کی تیاری کریں، عدالت انہیں معاون فراہم کردیگی، بعد میں عدالت نے کے کے آغا کو وفاق سے مزید ہدایات لینے کا کہتے ہوئے سماعت 18 اپریل تک ملتوی کردی۔