29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
پاکستان میں باکسنگ بدترین دور سے گذر رہی ہے، حسین شاہ
جنگ نیوز -
کراچی . . .شکیل یامین کانگا/ اسٹاف رپورٹر. . . سابق اولمپئن باکسر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی باکسنگ تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہی ہے،عہدیدار سیر سپاٹے کرتے پھر رہے ہیں، آئبا میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنے والے ایشین باکسنگ میں معمولی عہدہ لینے کے بعد خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں، حکومت فیڈریشن کے عہدیداروں سے سالانہ 20 لاکھ گرانٹ اور گزشتہ سال محترمہ بینظیر باکسنگ ٹورنامنٹ کی مد میں جاری ہونے والے چار کروڑ 53 لاکھ کا حساب لے۔ جاپان سے ٹیلی فون پر نمائندہ جنگ سے باتیں کرتے ہوئے حسین شاہ کا کہنا تھاکہ نئے سال کا چوتھا مہینہ بھی آدھے سے زیادہ ختم ہوچکا ہے لیکن کہیں باکسنگ ٹورنامنٹس کے انعقاد کا نام و نشان تک نہیں ہے، ملکی باکسنگ بدترین دور سے گزر رہی ہے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان سے باکسنگ کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ جب تک ملک میں قومی ٹورنامنٹس نہیں ہوں گے نیا ٹیلنٹ آگے کیسے آئے گا۔ موجودہ عہدیدار صرف غیرممالک کے سیر سپاٹے کرتے پھررہے ہیں۔ آئبا کے الیکشن میں بدترین شکست کا سامنا کرنے والے آج ایشین باکسنگ کنفیڈریشن میں نائب صدر کا عہدہ حاصل کرنے پر انتہائی خوش کا اظہار کررہے ہیں۔ دودا خان بھٹو کو پاکستان باکسنگ کے نائب صدر اقبال حسین کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس عہدے کیلئے بھرپور کام کیا اور پاکستان کی کامیابی کو یقینی بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اقبال حسین اس عہدے کے امیدوار تھے لیکن فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اکرم خان نے بدترین کردار ادا کرتے ہوئے اقبال حسین کو اس نائب صدر کے عہدے سے باہر کروایا۔ حکومت کی جانب سے ملنے والی سالانہ 20 لاکھ روپے کی گرانٹ کا بے دردی سے استعمال ہورہا ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے بینظیر بھٹو شہید باکسنگ ٹورنامنٹ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ملنے والی ساڑھے چار کروڑ روپے کی رقم کا بھی ابھی تک حساب کتاب پیش نہیں کیا گیا اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی اس کے جمع کرائے گئے حساب کتاب کی رپورٹ جاری نہیں کی۔