تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

صدر زرداری نے پاک فوج پر ڈبل گیم کا الزام لگایا، نیوزویک کا دعویٰ

جنگ نیوز -
نیویارک…فارن ڈیسک…امریکی جریدے نیوز ویک نے اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔ ’نیو زویک ‘ میں شائع ہونیوالی سابق سی آئی اے آفیسر کی ایک تفصیلی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لشکرطیبہ جو ممبئی حملوں میں ملوث رہی ہے اسے آج پاکستانی فوج کی سرپرستی حاصل ہے ۔ان الزامات کی جواب طلبی کے لیے آئی ایس آئی کے سربراہ کو نیویارک کی ایک عدالت میں طلب بھی کیا گیا تھا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی حالیہ مہینوں میں آخری حدوں کو پہنچ چکی ہے،جیسا کہ صدر اوباما اس سال کے آخر میں دنیا کی دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے اسلامی ملک (پاکستان )کے دورے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، وائٹ ہاوٴس القاعدہ اور افغانستان میں جنگ لڑنا چاہتا ہے جب کہ اسلام آباد کے ذہن میں کچھ اور ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت کے نزدیک روزانہ امریکی ڈرونز حملوں اور غیرملکی آپریٹو سے پاکستانیوں کی ہلاکت سے پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرہ ہے۔پاکستانی میڈیا اس غصے پر جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ رائے زیر گردش ہے کہ امریکا کے جاسوس ملک بھر میں گھوم رہے ہیں اور امریکی بھارتی اور اسرائیل گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی چوری کی منصوبہ بندی کے لئے یہ سٹیج ترتیب دے رہے ہیں۔نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج تخت کے پیچھے اصل طاقت ہے۔وہ گزشتہ دو سال سے امریکی انٹیلی جنس کی کارروائیوں کی مزاحمت کر رہی ہے اور ناراض بھی ہے۔فوج کے لئے ڈیوس کا معاملہ یا ڈرون حملوں کے ذریعے آپریشن جیسی غلطیوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ملک کے علاقے کا مکمل کنٹرول ان کی پکڑ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اس صورت حال کا حل ’ریگن قوانین‘ کی واپسی سے چاہتے ہیں۔اسی(80) کی دہائی میں ان قوانین کے تحت سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات میں سی آئی اے اور سعودی عرب آئی ایس آئی کو پیسہ اور ہتھیار فراہم کرتے تھے جو سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو جنگ کے لیے تیار کرتے تھے۔امریکا نے اس پروگرام کو سی آئی اے انتظامیہ اور جنگ کے لیے آئی ایس آئی پر چھوڑ دیاتھا۔100 سے کم سی آئی اے کے افسران واشنگٹن ، اسلام آباد اور ریاض میں پورے خفیہ پروگرام کو چلا رہے تھے۔ریگن قوانین میں خاموش معاہدے کے تحت امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نظر انداز کیا۔جس کی ہر سال کانگریس نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اقدامات "نامکمل " ہیں۔امریکا نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا ساتھ دیا اور مدد جاری رکھی۔مگر اس کے بعد سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی پر امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پابندی لگائی۔ایف 16اور دیگر ہتھیاروں کی فراہمی جس کی پاکستان نے رقم ادا کردی تھی اس کو روک لیا۔پاکستانی فوج امریکا کی اس بے وفائی کو کیسے فراموش کر سکتی ہے۔ مسئلہ آج یہ ہے کہ ہم واپس اس سرد جنگ کی دنیا میں نہیں جا سکتے۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی جہادیوں پر لڑائی کرنے کے لیے بھروسہ نہیں کرسکتی۔حتیٰ کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں طرف کھیل رہی ہے۔نیوزویک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ خود کش بم دھماکوں میں ہزاروں پاکستانیوں کوہلاک کیا جاچکا ہے۔اگر دونوں ایجنسیاں القاعدہ اور عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کو سست کرتی ہیں تو اوباما کے مقاصد حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ پاکستان آج دنیا کی سب سے تیز جوہری ہتھیار بنانے والا ملک بن چکا ہے ،امریکا، روس ، چین ، فرانس کے بعد پانچویں سب سے بڑی جوہری طاقت بن چکا ہے۔ اسلام آباد بیرونی دباوٴ اور دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا،افغانستان ، عراق یا لیبیا کے برعکس امریکاپاکستان پر دباوٴ کیلئے طاقت استعمال نہیں کرسکتا۔ پاکستان کراچی سے کابل تک نیٹو افواج کے لیے مرکزی سپلائی لائن کو کنٹرول کرتاہے اورجب بھی امریکی اسپیشل فورسز نے سرحد کی خلاف ورزی کی پاکستان نے اس سپلائی لائن کو روک دیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.