29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
جیو سوپر کی بندش ،مذاکرات ناکام ،ن لیگ کا اجلاس سے واک آؤٹ
جنگ نیوز -
کراچی…جیو سوپر کی بندش کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات اور حکومتی عہدے داروں نے موقف برقرار رکھا ہے کہ جیو سوپر صرف بیرون ملک سے نشریات دکھا سکتا ہے، پاکستان سے نہیں۔ پیمرا پہلے تو یہ کہتی تھی کہ سیکیورٹی کلئیرنس کی وجہ سے جیو سوپر کی پاکستان سے اپ لنکنگ نہیں ہو سکتی لیکن اب ایک نئی توجیح پیش کر ڈالی ہے کہ جیو کے پاس پہلے ہی چار لائسنس ہیں، پانچواں نہیں دیا جا سکتا ۔بیلم حسنین کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے اراکین نے کہا کہ اگر جیو سوپر فیس جمع کرا رہا ہے تو اسے عارضی لائسنس کیوں نہیں دیا جا رہا؟ حکومت اور پیمرا کی جانب سے جواب سامنے نہ آنے پر مسلم لیگ ن کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ۔ پیمرا کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں تھا کہ کیا انہوں نے کسی اور چینل کے خلاف اس طرح کی مہم جوئی کی یا اتنے اعلیٰ درجے کے وکلا کی خدمات حاصل کیں جیسے جیو گروپ کے خلاف کیا گیا؟ اراکین کمیٹی نے پیمرا سے استفسار کیا کہ یہ بات طے شدہ تھی کہ جیو سوپر کو ورلڈ کپ کیبل پر دکھانے کے ایکسلوزو حقوق حاصل تھے تو پھر پی ٹی وی سمیت دیگر چینلز نے میچز کیا دکھائے۔ سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی پر پیمرا کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ پیمرا اور سیکریٹری اطلاعات اس بات کا جواب دینے سے بھی قاصر رہے کہ انہوں نے اور کتنے ایسے چینلز کے خلاف کارروائی کی ہے جن کے پاس لائسنس نہیں ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ نوجوانوں کے چینل آگ کی نشریات کرکٹ دکھانے کے باعث معطل کر دیں کیوں کہ آگ ایک انٹرٹینمنٹ چینل ہے لیکن پی ٹی وی ہوم نے ورلڈ کپ کے میچز دکھائے ، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ، سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی سرکاری ٹی وی ہے اس کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے ، پیمرا اور حکومت کی پاس جانبداری کا بھی کوئی جواب نہیں تھا ۔ چئیرمین پیمرا کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ جیو سوپر کی نشریات دبئی سے بند ہیں جب کہ جیو کے نمائندے نے واضح کیا کہ نشریات دبئی سے جاری ہیں اور پاکستان سے پیمرا کے کہنے پر بند کی گئی ہیں۔ جیو سوپر کے ایشو پر چار رکنی سب کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔