29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
اندرون سندھ امتحانات ، ’ہونہار‘طلباء کی کھلے عام نقل، سندھی کا پرچہ آؤٹ
جنگ نیوز -
سکھر…سکھر تعلیمی بورڈ کے تحت آج ہونیوالے نویں جماعت کے سندھی کا پرچہ فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر کھلے عام فروخت ہواجبکہ اوباڑو، میرپور خاص ،دادو اور نوابشاہ میں طلبہ و طالبات کو نقل سے نہ روکا جاسکا ۔سکھر کے مختلف علاقوں خصوصاً پرانا سکھر، بیراج کالونی اور غریب آباد کے علاقوں میں آج ہونیوالا سندھی کا پرچہ فوٹو اسٹیٹ کی دکانوں پرامتحان شروع ہوتے ہی فروخت ہونا شروع ہوگیا اور لوگوں نے مہنگے داموں خریدا۔ طلبہ کے خیرخواہ پرچے کی مناسبت کتابوں سے صفحے نکال کر نقل کا مواد امتحانی سینٹرز کے عملے کو فراہم کرتے رہے جنھوں نے یہ مواد امتحان دینے والے طلبا کو فراہم کیا۔ضلع دادو میں ہونیوالے نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کے دوران بوائز اسکولوں کے ساتھ گرلز اسکولوں میں بھی نقل کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ جہاں نقل روکنے کے لئے انتظامیہ کا عملہ مقرر تو ہے تاہم ان کی موجودگی صرف خاموش تماشائی کی سی ہے۔ طالبات بھی بلا جھجک نقل کرتی ہوئی پائی گئیں۔ بھان سعید آبا د ہائی اسکول میں انتظامیہ نے چھاپہ مار کرنقل کرنیوالے متعدد طلبا کو سینٹر سے نکال دیاگیا۔میرپور خاص میں ہونیوالے نویں جماعت کے پرچہ کے دوران طلبہ کے ساتھ طالبات بھی نقل کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں اور آخر تک ہمت نہیں ہاری ۔ امتحانی مراکز میں طلبہ و طالبات گپ شپ کرتے ہوئے بھی دکھائی دئے۔ دوسری جانب گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول اوباڑو کی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے نویں اور دسویں کلاس کے امتحانات کے دوران کھلے عام نقل کا سلسلہ جاری رہا، طلبہ نے کتابیں رکھ کر نقل کی ۔نوابشاہ میں بھی امتحان میں نقل کا سلسلہ جاری رہا ۔اس تمام صورتحال کے باوجود تعلیمی بورڈزکی متعلقہ ٹیمیں نقل روکنے میں ناکام نظر آتی ہیں ۔