تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

اسامہ تورابورا سے پاکستان نہیں، شمال کی طرف فرار ہواتھا،برطانوی اخبار

جنگ نیوز -
لندن…فارن ڈیسک… اسامہ بن لادن وسط دسمبر 2001میں میں تورا بورا سے پاکستان کی بجائے شمال کی طرف فرار ہوئے تھے۔ برطانوی اخبار’گارڈین‘ کو ملنے والی گوانتا نامو بے کی فائل نے امریکی اور مغربی قوتوں کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے، اور ساتھ ہی

کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کے تورا بورا سے فرار کی کہانی کو دوبارہ سے لکھنا ہوگا۔کئی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن افغانستان میں امریکی جارحیت کے بعد پاکستان کی بجائے شمال کی طرف بھاگے تھے۔اسامہ بن لادن امریکی اور برطانوی اسپیشل فورسز کے نرغے سے دسمبر 2001 میں معمولی سے مقامی جنگجو سردار کی مدد فرار ہوئے تھے اس نے افغانستان کے شمال مشرق کی طرف جانے کے لیے اسامہ بن لادن کی رہنمائی اور حفاظت کی خاطرجنگجو فراہم کیے تھے۔یہ انکشافات خفیہ دستاویزات میں کیے گئے جو گوانتانامو بے میں حکام نے مرتب کی تھیں۔القاعدہ کے رہنما کا توڑا بورا سے کامیاب فرار افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی ابتدا میں خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ مختلف نظریات گردش کر رہے ہیں لیکن یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ کس طرح اسامہ بن لادن اتحادی فوج سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ایک قیدی ہارون شہراز الفغانی کے اگست 2007 میں دیئے گئے بیان کے مطابق اسامہ ایک مقامی پاکستانی عسکریت پسند کمانڈر اور عالم دین مولوی نور محمد کی مدد سے اس پہاڑ کے مضبوط گڑھ سے بچ نکلے۔مولوی نور محمد نے وسط دسمبر 2001میں القاعدہ کے اعلی کمانڈر ابو تراب کے ساتھ ملاقات کے بعد اسامہ بن لادن اور ان کے قریبی ساتھی ایمن الظواہری کی حفاظت کے لیے 40 یا 50 جنگجو فراہم کیے تھے۔امریکی افواج نے9 / 11 کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو مارنے کی کارروائی دسمبر 2001 کے آغاز پر شروع کی ۔اس سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن تورا بورا سے پاکستان میں فرار ہو ئے اور یہاں تک کہا جاتا تھا کہ پاکستانی فوج اور پیراملٹری ان کو محفوظ طریقے سے سرحد کے پار پہنچایا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.