تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
26 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:21

کراچی میں قتل و غارت گری پر ایکشن کیو ں نہیں لیا گیا،سپریم کورٹ

جنگ نیوز -


کراچی…سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ واقعات کی جامع تفصیلات طلب کرکے وزیراعظم اور وفاقی وزیرداخلہ کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے، مقدمہ کی آئندہ سماعت کراچی میں ہوگی جبکہ سپریم کورٹ ، کراچی میں درج کیسز کی ماتحت عدلیہ میں سماعت کی مانیٹرنگ بھی کرے گی ۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کراچی میں امن وامان کے ازخود نوٹس کی سماعت کی ، سندھ کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری اور وفاق کی طرف سے بابراعوان بطور وکیل پیش ہوئے،عدالت کو بتایا گیا کہ اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی بھی فریق مقدمہ بننا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مقدمہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ملک کی بہتری کا معاملہ ہے،انہوں نے کہا کہ جب ملک میں آئین نافذ نہ ہو اورجب بااثر افراد قانون سے بالاتر ہوجائیں تو ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں، شکر ہے کہ آج ملک میں آئین زندہ ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ انٹیلی جنس والے قانون نافذ کرانے والے اداروں سے معلومات کا تبادلہ کیوں نہیں کرتے ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ ایک ماہ ے بدامنی کی 5 سو ایف آئی آر درج ہوئیں ، ان میں 3 سو افراد قتل ہوئے اور 232 کیسز رجسٹرڈ کئے گئے، عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ کتنی بوری بند لاشیں ملی، کتنے سر قلم ہوئے، کتنے افراد کے جسم میں ڈرل ہوئے اور اعضاء کس کے کاٹے گئے،عدالت نے جرائم کی متعلقہ تھانوں کی حدود سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں، جسٹس غلام ربانی نے ریمارکس میں کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ میں کون ملوث ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت دن رات بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ لوگ اس نتائج کے منتظر ہیں ،سینئر قانون دان حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ جرائم روکنے کے لئے تمام اداروں میں تعاون ضروری ہے کیونکہ سپریم کورٹ سڑکوں پر جرائم کی روک تھام نہیں کرسکتی ، عدالت نے مزید سماعت 29 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواست پر وزیراعظم اور رحمان ملک سمیت سندھ کے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کردیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.