29 اگست 2011
وقت اشاعت: 20:6
کراچی: کے ای ایس سی ملازمین و پولیس میں تصادم ، اخلاق خان گرفتار
جنگ نیوز -
کراچی …کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ہیڈ آفس پرتنخواہوں کی عدم ادائیگی پر مشتعل ملازمین اورپولیس کے درمیان ایک بار پھر تصادم شروع ہوگیا ہے، پولیس کی جانب سے ملازمین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے چیئر مین سی بی اے اخلاق خان سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیااور کے ای ایس سی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔ دوسری جانب کے ای ایس سی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسکارڈا میں محصور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اس سے قبل آج صبح سے ہی کے ای ایس سی کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرہیڈ آفس پراحتجاج کررہے تھے۔مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پولیس نے شیلنگ اورہوائی فائرنگ کی۔محصورعملے کو نکالنے کی کوشش پرمظاہرین نے پولیس کی بکتر بندکوہیڈ آفس کے اندرجانے سے روک دیا۔ترجمان کے ای ایس سی کے مطابق ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ کے ساتھ رمضان اور عیدپیکیج بھی ادا کیاجا چکاہے۔عید سے قبل کے ای ایس سی انتظامیہ اور ملازمین کا تنازع ایک بار پھرشدت اختیار کرگیاہے۔سر پلس پول میں ڈالے گئے ملازمین نے دھرنادیکر کمپنی کے ہیڈ آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی اورایک عینی شاہدکے مطابق کے ای ایس سی کے گارڈز نے جوابی کارروائی کے طور پراحتجاجی ملازمین پرفائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔اس دوران کئی افراد زخمی بھی ہوگئے۔دوسری جانب چیئرمین سی بی اے اخلاق احمدنے بتایا کہ پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ سے9افراد زخمی ہوئے۔اخلاق احمدنے بتایاکہ26جولائی کوگورنرہاوٴس میں کئے جانیوالے تحریری معاہدے کے تحت3 دن کے اندر3 ماہ کی تنخواہیں اداکی جانی تھیں جواب تک نہیں دی گئیں۔مظاہرے کے دوران پولیس حکام اور احتجاجی ملازمین کے درمیان مذاکرا ت بھی ہوئے،جن کاکوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا۔