تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
30 اگست 2011
وقت اشاعت: 16:34

ذوالفقار مرزا نے سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، ایم کیو ایم

جنگ نیوز -


کراچی . . . . . متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذوالفقار مرزا کی حالیہ پریس کانفرنس کا مقصد کراچی میں قتل و غارت گری اور بھتہ خوری کے خلاف سپریم کورٹ کی از خود نوٹس کی کارروائی پر اثر انداز ہونا ہے۔ایم کیو ایم نے ذوالفقارمرزا کی پریس کانفرنس کا سنجیدگی اور بردباری سے جائزہ لیا ہے،ذوالفقار مرزا نے ماضی میں بھی ایم کیو ایم اور اس کے قائد کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور اس حالیہ پریس کانفرنس میں بھی انتہائی سنگین الزامات لگائے، الطاف حسین کے خلاف انتہائی بیہودہ اور گھٹیا زبان استعمال کی۔فیصل سبزواری نے کہاکہ پاکستان کو توڑنے سے متعلق امریکی سازش کا الزام بچکانہ ہے جس سے ذوالفقار مرزا کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے لندن میں مبینہ خفیہ اجلاس میں الطاف حسین کی جانب سے متحدہ کے اہم رہنماوٴں ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر کو چلے جانے کا کہہ کر ذوالفقار مرزا سے ملاقات کا کہنا انتہائی جھوٹا الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہم پر جناح پور بنانے کے الزامات لگائے گئے اور اس کے جھوٹے نقشے تک پیش کئے گئے، یہ سب پیش کرنے والے ریاستی اداروں کے افسران تھے لیکن ایک وقت آیا جب الزام لگانے والوں نے خود اسے من گھڑت اور اردو بولنے والوں کی نسل کشی کیلئے جھوٹے منصوبے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ کچھ عرصہ قبل ذوالفقار مرزا نے خود پاکستان توڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن چند ماہ میں ایسا شخص ایسا پارسا ہو گیا کہ پاکستان بنانے اور بچانے والوں پر الزام لگانے لگا۔ فیصل سبزوارینے پختونوں کو ہلاک کرنے کے حوالے سے جو بات الطاف حسین سے منسوب کی وہ انتہائی جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس بیان سے پختونوں اور اردو بولنے والوں کو لڑانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی واضح الفاظ میں پختون بھائیوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا کوئی ایک فرد بھی نہ ہی پختون اور نہ ہی کسی اور کے خلاف ہیں، وہ ہمارے بھائی تھے، ہیں اور رہیں گے، نہ پہلے ان سے کوئی جھگڑا تھا، نہ آج ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلفراز خان خٹک ہمارے پختون رکن ہیں، جبکہ ہمارے پختون ساتھی بادشاہ خان کو دہشت گردوں نے سفاکی سے شہید کیا۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی طرح خیبر پختونخواہ کے 9اضلاع میں بھی ذوالفقار مرزا کے بیان کے خلاف مظاہرے ہوئے، وہاں تنظیم سازی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے بلوچوں اور مہاجروں میں فساد کرانے کی کوشش کی،کراچی میں بھتے کی پرچیاں کس نے تقسیم کیں؟ یہاں ان مجرموں کو دوسرے علاقے سے لا کر بسایا گیا، سرکاری گاڑیوں میں انہیں لایا گیا، اسلحے کی تقسیم کی گئی، ذوالفقار مرزا کے وزیر داخلہ بنتے ہی اغواء برائے تاوان اور بھتے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، متاثرہ علاقوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیرشاہ کی کباڑی مارکیٹ میں13افراد کو شہید کیا گیا، امن کمیٹی کے جن دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، انہیں ذوالفقار مرزا کے دفتر میں بلا کر پولیس کے حوالے کیا گیا، گواہوں کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ شناخت نہ کرسکیں۔ ذوالفقار مرزا کی جانب سے ان دہشت گردوں کو اپنا بچہ کہنا یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پشت پناہی کس نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کا وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا خود دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا تھا، وہ تاجروں کی نشاندہی پر سیخ پا ہوا، دھمکی دی کہ اگر خون خرابا ہوا تو سب سے زیادہ خون اردو بولنے والوں کا بہے گا۔انہوں نے کہا کہ رینجرز نے لیاری میں کارروائی کی تو ٹارچر سیل ملے، وہ رکشے ملے جن میں مغیوں کو قتل کر کے پھینکا جاتا تھا، جہاں قتل کی ویڈیو بنائی جاتی تھیں جب وہ جگہ ملیں تو شور مچایا گیا تاکہ لوگوں کی توجہ ہٹ جائے،یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا تاکہ کراچی میں قتل و غارت گری اور بھتہ گری کے خلاف سپریم کورٹ کی از خود نوٹس کی کارروائی پر اثر انداز ہوا جائے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک تحقیقاتی رپورٹس کا تعلق ہے، ہر وہ شخص ملزم رہتا ہے جب تک عدالت میں ثابت نہ ہو جائے۔ الطاف حسین پر تو پولیس والے کی ٹوپی چرانے تک کا مقدمہ قائم کر دیا گیا تھا، جناح پور ہو، میجر کلیم کیس ہو، سارے مقدمات کا عدالت میں سامنا کیا۔ ہم عدالتوں کا انتہائی احترام کرتے ہیں،یہ خود بھی عدالت میں جائیں اور سارسے الزامات پر عدالت میں ہمیں طلب کریں ہم تیار ہیں۔ فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کراچی میں موجود جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں،ہم پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ ذوالفقار مرزا اور ان جیسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم صبر کریں گے، اشتعال میں نہیں آئینگے اور عوام سے بھی یہی اپیل کرینگے۔ہمارا سچ ہمارے عمل اور قول سے عیاں ہیں، ہم نے ماضی میں جھوٹ نہیں بولے کہ خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے قرآن اٹھائیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.