3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:32
ملک بھرمیں بارشوں کا سلسلہ جاری،دو دن میں29 افراد جاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی...ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً سندھ میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ دو روز میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں ہلاک افراد کی تعداد 29 ہوگئی۔ ضلع بے نظیر آباد کو حالیہ بارشوں کے باعث آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔دادو ، جوہی ، میہڑ، کے این شاہ ، سیتا روڈ ، کاچھو ، بھان سعید آباد اور دیگر شہروں میں گزشتہ 3 گھنٹے سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شہری و دیہی علاقے 2 سے 6 فٹ میں پانی میں ڈوب گئے ہیں۔جوہی میں طوفانی بارش کے باعث چینجانی شاخ میں گاوٴں بخش علی کے مقام پر 15 فٹ اور سنجرانی شاخ میں گاوٴں گوٹھ پنہور کے مقام پر 20 فٹ چوڑے شگاف پڑنے سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ نیو کالونی ،فرید کالونی ،بروہی محلے کی کچی آبادی میں کچے مکانات گرگئے۔خیرپور میں نارا کے پہاڑوں سے آنے والے پانی کے ریلے سے باقرشاہ حفاظتی بند اور سورہ بند بہہ جانے کے باعث نارا کے کئی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ ضلع بے نظیرآباد میں شدید بارشوں کے دوران مختلف مقامات پر کچے مکانات گرگئے۔ پولیس لائن ، کاتیار گوٹھ ، تاج کالونی اور ملک کالونی میں جمع بارش کے پانی کی عدم نکاسی کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ نے ضلع بے نظیرآباد کو آفت زدہ قرار دے کر ش متاثرین کے لئے 7 کروڑ روپے کی امدادکا اعلان کیا ہے۔ ضلع کے سرکاری اسکولوں میں قائم ایک ہزار ریلیف کیمپس میں آٹھ ہزار متاثرین کو منتقل کردیا گیا ہے۔ضلع بدین کے200 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جہاں تیزی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں درجنوں کچے مکانات گرگئے ہیں۔ شکار پور ، کشمور اور کندھ کوٹ میں وقفے وقفے سے تیز بارش کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نوشہرو فیروز میں مختلف مقامات پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلع لاڑکانہ ، قمبرشہدادکوٹ اور ٹھٹھہ میں گزشتہ چار روز سے وقفے وقفے سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث بازاروں اور گلیوں میں گندگی اور کیچڑ جمع ہوگئی ہے۔ ادھر جامشورو میں بارش کے پانی کے باعث لینڈسلائڈنگ سے لکی شاہ صدر ریلوے ٹریک اور بھگو توڑو ٹریک پر ریلوے ٹریفک معطل ہوگیا۔ صادق آباد کے مختلف علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں اور کئی کچے مکانات گرگئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں بھی موسلا دھاربارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور کئی کچے مکانات گرگئے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے کشمیر کٹ سے ٹانک آنے والی 2 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، ایک لاپتہ شخص کی لاش مل گئی۔ شمالی بلوچستان میں لورا لائی کے مضافاتی علاقوں میں طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔پنجاب میں ہارون آباد اور گردنواح میں آندھی کے بعد موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ڈیرہ غازی خان کی درگ لہڑ ندی میں طغیانی سے قبائلی علاقہ فاضلہ کچھ کاتیسریروز بھی زمینی رابطہ منقطع ہے۔