3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:32
سندھ،بلوچستان اور پنجاب میں موسلا دھار بارشیں
جنگ نیوز -
کراچی…سند ھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشیں عوام کے لئے وبال جان بن گئی ہیں۔ تین روز کے دوران بدین، ٹھٹھہ، نوشہروفیروز، ڈیرہ غازی خان،لورالائی سمیت ملک بھر میں35افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سندھ میں حالیہ بارشوں نے صوبہ بھر میں شدید تباہی مچائی۔ ضلع خیرپور کے علاقے فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں 50 ،50 فٹ شگاف پڑنے سے 8دیہات اور وسیع اراضی زیر آب آگئے ہیں۔ادھربارش کے بعدگاڑھی پل کے قریب گھر کی چھت گرنیسے 8سالہ بچہ جاں بحق اور 6خواتین زخمی ہوگئیں۔جبکہ بارش کے بعدنارا اور پریالو میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں خاتون سمیت 2افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ضلع میرپور خاص میں طوفانی بارشوں کے بعد ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانچ مقامات پر شگاف پڑنے کے خطرے کے بعد پشتوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔ سیم نالے سے ملحقہ علاقوں کے رہائشی سینکڑوں افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔ ضلع دادو کے علاقوں دادو،جوہی اور میہڑ سمیت دیگر علاقوں میں سینکڑوں کچے مکانات اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بارش کے پانی کی نذر ہوچکی ہیں۔ نوشہروفیروز کے نشیبی علاقے برساتی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ضلع گھوٹکی اور اوباڑو میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں گرنے والے متعدد کچے مکانوں کے ملبے پر متاثرہ خاندان بے یار و مددگار امداد کے منتظر ہیں۔ لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں بھی نشیبی علاقوں میں سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھری ہوئی ہیں اس صورتحال سے شہری سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ پنجاب کے علاقے رحیم یار خان کی تحصیل خانپور میں بارش کا پانی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہے جس کی نکاسی کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔