3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 10:6
سند ھ ، بلوچستان میں موسلا دھاربارشیں، تین دن میں38افرادجاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی…سندھ اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہیں اور تین دن میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 38ہوگئی ہے۔شدید بارشوں کے بعد ضلع خیر پور کی دو نہروں میں 50،50 فٹ چوڑے شگاف پڑ نے سے وسیع اراضی اور 8دیہات زیر آب آگئے ہیں۔تین روز کیدوران ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 38ہوگئی ہے۔ ضلع خیرپور کے علاقے فیض گنج کی علی نواز واہ اور پندرہو واہ نہروں میں 50 ،50 فٹ شگاف پڑنے سے 8دیہات اور وسیع اراضی زیر آب آگئی ہے۔ادھربارش کے بعدگاڑھی پل کے قریب گھر کی چھت گرنے سے 8سالہ بچہ جاں بحق اور 6خواتین زخمی ہوگئیں۔نارا اور پریالو میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں خاتون سمیت 2افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سکھر کی تحصیل صالح پٹ میں گزشتہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارش اور پہاڑوں سے آنے والے پانی سے متعدد دیہات اور فصلیں زیر آب ہیں۔متاثرہ افراد کو انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل سکی ہے۔نواب شاہ کے سول اسپتال میں بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث مریضوں ،ڈاکٹروں اور تیمار داروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔4روز سے کھڑے پانی کی وجہ سے اسپتال میں تعفن ،گندگی اور بدبو کے باعث سانس لینا بھی دوبھر ہوگیا ہے۔ضلع میرپور خاص میں طوفانی بارشوں کے بعد ایل بی او ڈی سیم نالے میں پانچ مقامات پر شگاف پڑنے کے خطرے کے بعد پشتوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔ سیم نالے سے ملحقہ علاقوں کے سیکڑوں افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ضلع دادوکے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے مزید200 مکانات گرگئے جبکہ فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ منچھر جھیل اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے،نوشہروفیروز کے نشیبی علاقے برساتی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ضلع گھوٹکی اور اوباڑو میں متاثرہ خاندان موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں گرنے والے کچے مکانوں کے ملبے پر بے یار و مددگار امداد کے منتظر ہیں۔لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں بھی نشیبی علاقوں میں سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھری ہوئی ہیں اس صورتحال سے شہری سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔پنجاب کے علاقے رحیم یار خان کی تحصیل خانپور میں بارش کا پانی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہے جس کے نکاس کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔