10 جنوری 2012
وقت اشاعت: 13:54
سلیم شہزاد قتل کی تحقیقاتی رپورٹ آج وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی
جنگ نیوز -
اسلام آباد… صحافی سلیم شہزاد کے قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس قتل کی ذمہ داری براہ راست کسی ادارے یا فرد پر عائد نہیں کی تاہم اپنے شکوک و شبہات کو حتمی رپورٹ کا حصہ بھی بنادیا ہے ۔ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کمیشن نے تقریبا چھ ماہ میں کارروائی مکمل کرکے رپورٹ تیارکرلی ہے، ذرائع نے جیونیوز کو بتایاہے ہے کہ اس رپورٹ میں سلیم شہزاد کے قتل سے متاثرہ خاندان کی کفالت اور دیگر صحافیوں کی شکایات کیلئے پی ایف یو جی کی سفارشات کو شامل کردیاگیا ہے ، کمیشن نے صحافیوں کی شکایات کیلئے حکومت کو محتسب ادارہ بنانے کی سفارش کی ہے، یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ سلیم شہزاد کے بچوں کی تمام عمر تعلیم کا خرچ حکومت برداشت کرے اور متاثرہ فیملی کو 30 لاکھ روپے امداد دی جائے، سلیم شہزاد کمیشن میں بیان دینے والے 41 افراد نے قتل کی جوہات پر مختلف آراء دی ہیں اور تمام شواہد اور بیانات میں کسی ایک ادارہ یا فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیاگیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد قتل کیس میں کمیشن نے اداروں سے متعلق جو شکوک و شبہات نوٹ کئے انکو بھی رپورٹ کا حصہ بنادیاگیا ہے۔