10 جنوری 2012
وقت اشاعت: 13:58
بادی النظر میں وزیر اعظم دیانت دار آدمی نہیں، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
اسلام آباد… سپریم کورٹ نے این آر او عمل درآمد کیس میں میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بادی النظر میں وزیر اعظم دیانت دار آدمی نہیں، آرٹیکل 62ون کے تحت ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہوسکتا جو دیانت دار اور امین نہ ہو،وزیر اعظم نے آئین سے وفاداری کے دفاع کا حلف لیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے آئین سے وفاداری کی بجائے سیاسی جماعت سے وفاداری کی، جیو کو انٹرویو میں صدر نے واضح کہا کہ انکی جماعت عدالتی فیصلے کے ایک حصے پر عمل نہیں کرے گی، سینٹ ، قومی اسمبلی میں اراکین نے ایسی تقاریر کیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ انکا کیا طرز عمل ہوگا، جب آئین پر عمل نہ ہو تو عدلیہ کا حلف ہے کہ اس پر کارروائی کرے، اگر حکومت قانون توڑے تو عام شہری بھی ایسا ہی کرے گا، سیاسی جماعت سے وفاداری آئین سے وفاداری سے زیادہ اہم نہیں، بادی النظر وزیر اعظم دیانت دار آدمی نہیں، انہوں نے حلف کی پاسداری نہیں کی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ نیب اور حکومت دونوں مختلف بہانوں سے عمل نہ کرتے رہے،ہم نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ، عدالت کے اقدام سے آئینی توازن قائم ہوگا،ہم آگاہ ہیں جو اقدامات کرنے جارہے ہیں وہ کافی ناخوشگوار ہوگا، دو سال سے وفاقی حکومت عدالتی حکم پر عمل نہیں کررہی، عدنان خواجہ کی تقرری سپریم کورٹ سے چھپا کر کی گئی، عدالت بلاخوف و خطر کام کرتی رہے گی، آرٹیکل 189اور 190کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کی معاونت کے پابند ہیں،