تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
10 جنوری 2012
وقت اشاعت: 13:58

سپریم کورٹ نے این آراوعملدرآمد کیس کا فیصلہ سنادیا

جنگ نیوز -


اسلام آباد…سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ بادی النظر میں وزیراعظم نے آئین کی بجائے سیاسی جماعت سے وفاداری کی ، عدالت نے صدر اور وزیراعظم پر آئین سے انحراف کے ممکنہ الزام کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو6 آپشنز دیے ہیں ، معاملہ حتمی فیصلے کیلیے لارجر بنچ کو بھیجتے ہوئے 16 جنوری تک مہلت بھی دے دی گئی ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے این آر او عملدرآمد کیس پر12 صفحات پر مشتمل اپنا متفقہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ صدر زرداری نے جیو نیوز کو انٹرویو میں واضح کہاکہ ان کی جماعت نے عدالتی فیصلے کے ایک حصے پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نیکہا ہے کہ نیب اور حکومت دونوں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہیں ،جو اقدام تجویز کرنے جارہے ہیں وہ کافی ناخوش گوار ہوں گے لیکن اس سے آئینی توازن قائم ہوگا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم کو بادی النظر میں غیر دیانت دار آدمی کہتے ہوئے اٹارنی جنرل کو6 آپشنز حکومت تک پہنچانے کے لیے دیئے۔ آپشن 1: حلف کی وفاداری اور عدالتی احکامات کی پیروی نہ کرنے پر صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزیرقانون کے خلاف آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے کی کارروائی کی جائے۔آپشن 2: وزیراعظم، وفاقی وزیرقانون، سیکریٹری قانون کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔آپشن 3: عدالتی حکم پر عمل کرانے کیلئے آرٹیکل 187 کے تحت عدالتی کمیشن قائم کردیا جائے۔آپشن 4: صدر کے لیے کسی نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ نہیں مانگا ، کوئی ان آپشنز سے متاثر ہوتا ہے تو عدالت اسے سننے کے لیے موقع دے رہی ہے۔ آپشن 5: چیئرمین نیب کو نیب آرڈیننس کے تحت ہٹانے کی کارروائی کی جائے۔آپشن 6: عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے اور آئینی دیباچہ کے مطابق عوام کو فیصلہ کرنے دیاجائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ان 6 آپشنز میں کیا استعمال کیا جائے تاکہ یہ شکایت نہ ہو کہ انہیں سنا نہیں گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ عدنان خواجہ، احمد ریاض شیخ اور ملک قیوم کیخلاف نیب کی رپورٹس غیر تسلی بخش ہیں،سزایافتہ افراد کو ترقی ملنے میں ڈھال فراہم کی گئی۔سوئس کیسز سے متعلق سیکریٹری قانون بھی عدالت نہیں آئے اور نہ عدم حاضری پر کوئی اطلاع دی۔فیصلے میں کہاگیا ہے کہ ملک کی اعلی ٰترین عدالت میں شطرنج کا کھیل یا چھپن چھپائی نہیں ہونی چاہیے، اگر حکومت قانون توڑے تو عام شہری بھی ایسا کرے گا ، آئین پر عمل نہ ہو تو عدلیہ نے کارروائی کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے ۔ عدالت نے معاملہ 16 جنوری کو لارجر بینچ میں سماعت کے لییفکس کرنے کی خاطر بھیج دیا ہے اور چیئرمین نیب، اٹارنی جنرل اور سیکریٹری قانون کو ذاتی طور پر طلب کیاہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.