5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
آئندہ ہفتوں میں ہزاروں اتحادی فوجی افغانستان میں تعینات ہونگے
جنگ نیوز -
کابل . . . . . . . . . نیٹو ذرائع مطابق آنے والے ہفتوں میں دس ہزار سے زائد اتحادی فوجی افغانستان میں تعینات کیے جائیں گے جن میں سے سے زیادہ تر تعداد امریکی فوجیوں کی ہوگی۔امریکی فوجی ذرائع اور ایک سینیر نیٹو آفسر کے مطابق افغانستان میں امریکی کمانڈنگ آفسر جنرل پیٹریس نے اشارہ دیا ہے کہ انہیں افغانستان میں مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق جنرل پیٹریس نے مزید فوج کی تجویز بند دروازے کی بریفنگ میں دی تھی۔نیٹو ذرائع کے مطابق مزید دو ہزار فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے جن میں سے 750 افغانی فورسز کو تربیت دیں گے۔ایک اور نیٹو ذرائع نے سی این این کو تبایا کہ ان دو ہزار فوجیوں میں امکان ہے کہ زیادہ تر امریکی فوجی ہوں گے۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ امریکا کے پاس ہی ایسا اسلحہ اور فوجی سامان ہے جس سے سڑک کے کنارے پھٹنے والے بموں کو ناکارہ بنایا جائے سکتا ہے۔تاہم مزیدامریکی فوجی بھیجنے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ مئی میں امریکا کے وزیر دفاع روبرٹ گیٹس نے عارضی طور پر افغانستان فوجی تربیت دینے والے 850 اہلکار بھیجے تھے۔یہ فوجی اس وقت بھیجے گئے تھے جب یورپی ممالک افغانستان فوجی نہیں بھیج پائے تھے۔تاہم 31 اگست کو امریکا کے لڑاکا فوجیوں کا افغانستان سے انخلا مکمل ہوگیا تھا۔لیکن جولائی 2011 میں ہونے والا فوجی انخلا جزوی طور پر ہوگا جس کے تحت امریکی فوجیوں کو ان علاقوں سے ہٹا دیا جائے گا جہاں افغانی فوج سیکیورٹی سنبھالنے کے قابل ہوگی۔