5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
عدالتی فیصلوں پر غیر مہذب تنقید ہمارے نوٹس میں ہے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر بعض حلقوں کی طرف سے غیرمہذب تنقید پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے ، انہوں نے 18ویں ترمیم کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین اور بنیادی حقوق سے متصادم قوانین کالعدم کئے جاتے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ، آج سول سوسائٹی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے 18ویں آئینی ترمیم کے حمایت میں دلائل دیئے ، ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلوں پر غیر مہذب انداز میں تنقید ہمارے نوٹس میں ہے ، گزشتہ روز ایک چینل نے عدالتی فیصلے پر لفظ ” واردات“ استعمال کئے ، لیکن پھر بھی عدالتی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو علم ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے تصور پر قانون کو کالعدم نہیں کیا گیا جبکہ آئین اور بنیادی حقوق سے متصادم قوانین کو کالعدم کرنے کے فیصلے بھی دئے جاچکے ہیں ، بنچ کے رکن جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے سلمان راجا ایڈووکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم 3 ماہ سے نظریئے اور فیصلوں کے حوالے سن کر اکتا چکے ہیں اس لئے حقائق پر بات کرنے کی کوشش کی جائے ، جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر 8 رکنی کمیٹی نے ججز کی سفارشات مسترد کردیں تو عزت بچانا مشکل ہوجائے گا۔