تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45

پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کا کردار کم یا ختم نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . سپریم کورٹ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ہے، چیفجسٹس پاکستان نے ریمارکس دئے ہیں کہ ان کاکام پنڈورا باکس کھولنا نہیں ہے ، اگرچہ بنیادی ڈھانچے کے تصور پر کبھی کسی قانون کو کالعدم نہیں کیا گیا تاہم آئین اور بنیادی حقوق سے متصادم قوانین کو کالعدم کرنے کے فیصلے دئے جاچکے ہیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ، سول سوسائٹی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے 18ویں آئینی ترمیم کے حمایت میں دلائل دیئے۔ چیف جسٹس نے ایک موقع پرریمارکس میں کہاکہ عدالتی فیصلوں پر غیر مہذب انداز میں تنقیدان کے نوٹس میں ہے،گزشتہ روز ایک چینل نے عدالتی فیصلے پر لفظ ” واردات“ استعمال کئے لیکن عدالتی ضبط وتحمل کامظاہرہ کیاجارہاہے۔ایک اورموقع پرچیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ عدالت کے سامنے آئینی ترامیم کے 4 آرٹیکلز کو چیلنج کیا گیا ہے اور کیا یہ ضروری ہے کہ جو میدان سامنے نہیں ، اس میں عدالت داخل ہو۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ججز تقرر کے عدالتی کمیشن میں عدلیہ اور انتظامیہ کے نمائندے ہیں تو پھر پارلے مانی کمیٹی کا کیا کردار ہوگا ، پارلے مانی نظام میں وزیر اعظم کے کردار کو کم یا ختم نہیں کیا جاسکتا تو ایک کمیٹی کو وزیراعظم کا کردار کیسے دیا جاسکتا ہے ،، بنچ کے رکن جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہاکہ اگر 8 رکنی کمیٹی نے ججز کی سفارشات مسترد کردیں تو عزت بچانا مشکل ہوجائے گا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.