23 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:53
کراچی میں آپریشن کی منظوری، دہشتگردوں کو نہیں چھوڑا جائیگا
آج نیوز - وزیر اعظم نے کراچی میں بلا امتیاز آپریشن کی منظوری دے دی،پہلے مرحلے میں نو مقامات پر آپریشن ہوگا، دہشتگردوں کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، نہیں چھوڑا جائیگا۔ یہ بات سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے وزیراعظم کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس کے دو سیشنز کے بعد نیوز بریفنگ میں کہی انہوں نے کہا کہ سرجیکل آپریشن پر اجلاس میں شریک تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے ،وزیراطلاعات کا کہنا تھا اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے جمہوری حکومت پر الزامات بے بنیاد ہیں، پیپلزپارٹی کی حکومت پر الزامات غلط فہمی میں لگائے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ اس کی صفوں میں دہشتگردہوں ، ایم کیو ایم کے ایک کمیونٹی کے حوالے سے شکوے شکایت جائز نہیں۔ انہوں نے کراچی میں مارے گئے دیگر زبانیں بولنے والوں کے لیے ایک لفظ نہیں کہا۔ پیپلزپارٹی کے کئی ورکرز شہید ہوئے لیکن اس نے کسی پر الزام نہیں لگایا ، ہم نہیں چاہتے کے الزام تراشیوں کی سیاست کریں اور شہر کا امن خراب کریں۔ انہوں نے سوال کیا کہ لیاری گینگ وار کب اور کس دور میں شروع ہوئی ، انہیں کیوں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، اب جو اقدامات کیے اس سے کراچی کا امن ضرور واپس آئے گا۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ کراچی میں ایک سو سات سے زائد ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے ، کچھ ٹارگٹ کلرز نے سو سے زائد قتل کا اعتراف کیا ہے ، رضا حیدر اور ولی بابر کے قاتلوں کو اسی حکومت نے گرفتار کیا، بھتہ اور بوری بند لاشیں پاکستان پیپلزپارٹی کا کلچر نہیں ، پیپلزپارٹی نہ بھتے لیتی ہے نہ کھالیں اور نہ فطرہ جمع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کو چن چن کر مارا گیا اور پولیس کو جان بوجھ کر ڈی مورلائز کیا گیا۔ شرجیل میمن نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کو کسی کی بھی سرپرستی حاصل ہو نیست و نابود کردیں گے، دہشتگرد جلد الٹی گنتی گننا شروع کردیں گے۔ جس ایریا میں دہشتگردی ہوگی یا بھتہ لیا جائے گا، کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوگ منانا ہے تو کسی بھی گراؤنڈ میں قرآن خوانی کریں ،کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند کرنے سے پبلک کو نقصان ہوگا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ رحمان ملک کے آنے پر کسی کو اعتراض نہیں، سندھ حکومت انہیں مشاورت کے لیے بلاتی ہے۔