تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
3 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:34

چوبیس گھنٹے کے باوجود پولیس مغوی شہباز تاثیر کا سراغ نہ لگا سکی

آج نیوز - چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود پولیس مغوی شہباز تاثیر کا سراغ نہیں لگا سکی۔ لاہور میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن عبدالرزاق چیمہ نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور نہ ہی اغواء کاروں نے مغوی کی فیملی سے کسی قسم کی ڈیمانڈ کی ہے۔ تاہم پولیس کی طرف سے رات گئے شہر کے مختلف علاقوں میں شروع کیا جانے والا سرچ آپریشن سحری کے وقت ختم ہوگیا۔ ڈی آئی جی آپریشن نے رات گئے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن فی الحال میڈیا کو نہیں بتایا جا سکتا، کیونکہ اس سے مغوی کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملزم جلد گرفتار کرکے شہبازتاثیر کو بازیاب کروا لیا جائے گا۔پنجاب حکومت کی افسر شاہی کی طرف سے سیکیورٹی کی ناقص منصوبہ بندی نے جہاں کئی خاندانوں کو صدمات سے دور چار کیا وہاں تاثیر فیملی کو بھی آٹھ ماہ میں دوسرا بڑا دکھ برداشت کرنا پڑا۔شہباز تاثیر کا اغواء دھشت گردی کا شاخسانہ ہے یا ذاتی دشمنی کی کوئی واردات، ناکامی بحرحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہی ہے۔وہ ادارے جن کی ناقص حکمت عملی سے آمنہ تاثیر کو چند ماہ میں دوسرا بڑا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔پہلا صدمہ اپنے شوہر سلمان تاثیر کا، جو اس سیکورٹی گارڈ کی گولی کا نشانہ بنے جو انہیں پنجاب حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا۔ دوسرا صدمہ اسے اپنے بیٹے شہباز تاثیر کے اغواء کا برداشت کرنا پڑا، جس کی سیکورٹی کی ذمہ داری بھی پنجاب حکومت کی ہی تھی۔ پنجاب خصوصا لاہور میں گذشتہ تین سال سے امن و امان کی صورتحال کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔ اغواء برائے تاوان اور تاوان نہ ملنے پر معصوم بچوں تک کو قتل کردینا معمول بن چکا ہے، ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں میں ایک سال کے دوران سو فیصد اضافہ ہوا ہے،ایک امریکی شہری دن دیہاڑے عام شہریوں کو قتل کردیتا ہے تو دوسرا بزرگ امریکی شہری وزیراعلٰی کے اپنے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلے سے اغواء ہوجاتا ہے مگر اسکا کوئی سراغ نہیں مل پاتا۔تھانہ کلچر اور پولیس کی حالت زار پر خادم اعلٰی خود بارہا برہمی کا اظہار کرچکے ہیں۔ایلیٹ فورس کے نوے فیصد جوانوں کی وی وی آئی پی خاندانوں کے ساتھ ڈیوٹی کی خبروں کے باوجود انہیں اصل فرائض نہیں سونپے جاتے۔ایسے میں ڈاکٹروں، تاجروں اور مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے عام شہریوں پر تشدد کو پولیس اپنا اولین فرض سمجھ کر نمٹاتی ہے۔ان حالات میں فیض احمد فیض کی نظموں سے شغف رکھنے والے شہباز شریف کو اپنے ہمنام اور فیض کے خاندان سے نسبت رکھنے والے شہباز تاثیر کی بازیابی کیلئے اپنا فرض نبھانا ہوگا.

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.