تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
28 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 9:31

پاکستان کے پی ایچ ڈی ہولڈرز

جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان کو نوجوانوں کا ملک کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ چار کروڑ سے زائد نوجوانوں والے ملک پاکستان میں 15ہزار144لوگ ایسے ہیں جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں جبکہ اندازاً ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ طلبہ اس وقت پی ایچ ڈی کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2013 ء تک پاکستان کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں داخل طلبہ کی تعداد 11لاکھ17ہزار587تھی جس میں سے 2014 ء تک پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تعداد 1249 تھی۔پاکستان کے 15لاکھ144ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے افراد میں سے 3ہزار298افراد2002 سے پہلے کے پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بننے والے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے نہ صرف ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹیز کی حالت کو بہتر بنایا بلکہ اس ادارے کے بننے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ 1947 ء سے 2002 ء تک ملک میں صرف 3ہزار298جبکہ 2002 ء کے بعد ملک میں11ہزار846طلبہ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ہائرایجوکیشن بننے کے پہلے ہی سال پاکستان میں 273طلبہ نے پی ایچ ڈی کے لئے خود کو رجسٹرڈ کروایا۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد ہر سال بڑھتی گئی سال 2008 ء میں ملک بھر میں 628طلبہ نے خود کو پی ایچ ڈی کے لئے رجسٹرڈ کروایا۔سال 2010 ء میں 832 طلبہ جبکہ 2012 ء میں 1105 اور 2014 ء میں 1249 طلبہ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے خود کو رجسٹرڈ کروایا۔

پاکستان میں غیر ملکی یونیورسٹیز سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد الگ ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق غیر ملکی یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی لگ بھگ ملکی یونیورسٹیز سے ڈاکٹریٹ کرنے والے طلبہ جتنی ہے لیکن غیر ملکی یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کی حتمی تعداد کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

ہائرایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2002 ء سے سال 2014 ء تک سب سے زیادہ سوشل سائنسز میں طلبہ نے پی ایچ ڈی کی جن کی تعداد 2ہزار748ہے۔ فزیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کرنے والے طلبہ کی تعداد 2ہزار623 تھی جبکہ تیسری بڑی تعداد بائیولاجی اور میڈیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کرنے والوں کی ہیں جو2ہزار567 بنتی ہے۔

پاکستان میں موجودتمام سرکاری و نجی 163یونیورسٹیز میں پڑھانے والے اساتذہ کی مجموعی تعداد 34ہزار444ہے جس میں 26فیصد سیزائد فیکلٹی ممبران پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں۔ پاکستانی یونیورسٹیز میں 9ہزار253فیکلٹی ممبران پی ایچ ڈی ہولڈر جب کہ 25ہزار191فیکلٹی ممبران نان پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں۔

ہائرایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق سب سے زیادہ یونیورسٹیاں صوبہ سندھ میں ہیں جن کی تعداد 47 ہے جب کہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 44 یونیورسٹیاں ہیں۔خیبرپختونخواہ میں 29 جبکہ بلوچستان میں صرف 8 یونیورسٹیاں ہیں۔ ملک بھر میں وفاقی حکومت کے ماتحت چلنے والی یونیورسٹیز کی تعداد 30 ہے۔ ملک بھر میں 91 سرکاری جبکہ 72 نجی یونیورسٹیاں ہیں۔

صوبہ سندھ میں یونیورسٹیاں زیادہ ہونے کے باوجود طلبہ کی تعداد کم ہے ۔سندھ بھر کی جامعات میں کل ایک لاکھ 44 ہزار548 طلبہ پڑھتے ہیں جن میں سے 88 ہزار سے زائد سرکاری جبکہ 55 ہزار سے زائد نجی یونیورسٹیز میں پڑھتے ہیں۔

پنجاب میں یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد2لاکھ 60 ہزار141 ہے جن میں سے ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد سرکاری جبکہ 75 ہزار سے زائد نجی جامعات میں پڑھتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کی دستیاب فہرست کے مطابق ملک بھر کی 160ایسی یونیورسٹیاں ہیں جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تسلیم شدہ نہیں ہیں۔ ان یونیورسٹیز میں کراچی کی ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی، امریکن یونیورسٹی آف ہوائی، گلم شائر یونیورسٹی، واشنگٹن یونیورسٹی، ویسٹرن انٹرنیشنل یونیورسٹی آف پاکستان سمیت دو درجن سے زائد یونیورسٹیاں اورادارے ایسے ہیں جو کراچی میں موجودہیں۔

ہیک کی جانب سے غیر تسلیم شدہ یونیورسٹیز میں حیدرآباد اور سکھر کی ایک ایک یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ ہیک کی ویب سائٹ کے مطابق قلندر شہبار یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف وٹنری اینڈ اینیمل سائنسزسکرنڈ کا تسلیم ہونا بھی ابھی باقی ہے ہائر ایجوکیشن کمیشن ان یونیورسٹیز کی جانچ پڑتال میں لگا ہوا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.