29 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 11:18
آئی جی سندھ نےحکومتی اختیارات استعمال کرکےپولیس نظام تباہ کردیا ، سپریم کورٹ
جیو نیوز - اسلام آباد..... ترقیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق سندھ ریزروپولیس کی اپیل کی سماعت کےدوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نےریمارکس دیے ہیں کہ ترقیوں میں تفریق کیوں کی جارہی ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نےکہاپولیس فورس ایک ہے تو سنیارٹی بھی ایک ہونی چاہیے،آئی جی سندھ نے حکومت سندھ کے اختیارات استعمال کرکے پولیس کے نظام کو تباہ کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ترقیوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق سندھ ریزروپولیس کی اپیل پرسماعت کی۔طلبی کے باوجود اے آئی جی لیگل، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اور ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اے آئی جی لیگل پیش نہیں ہورہے، ڈی آئی جی کو خود حکومت نے ہٹادیا، ایڈووکیٹ جنرل آنہیں رہے ، عدالت کو تفصیلات کون بتائے گا؟؟
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ کیا سندھ پولیس کا کام اب سپریم کورٹ کرے گی ، ترقیوں میں تفریق کیوں کی جارہی ہے، بتایا جائے کہ سندھ پولیس میں کتنی سنیارٹی اوپر نیچے کی گئی ۔ عدالت نے آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت تین نومبر تک ملتوی کردی۔