14 مئی 2016
وقت اشاعت: 11:56
رہائشی علاقوں سے دفاتر کی منتقلی، مزیدمہلت کی درخواست مسترد
جیو نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں سے دفاتر کی منتقلی کے لئے 2 سے 3 ماہ کا وقت دینے کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس عظمت سعید کا ریمارکس میں کہنا ہے کہ کیا آئی جی پولیس کے دفتر پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا،دفتر پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہے تو ملک کے قانون پر عمل کرنا ہوگا۔
اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق درخواست کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کی۔ سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری مواصلات اور چیرمین سی ڈی اے عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے دفاتر کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرنے کے لیے 2سے 3ماہ کا وقت دینے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت کا مہلت دئے جانے کے باوجود آئی جی اسلام آباداور آئی جی موٹرویز کے دفاتررہائشی علاقوں سے باہر منتقل نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا۔جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس میں کہا کہ چیرمین سی ڈی اے کام نہیں کرسکتے توگھرچلے جائیں۔
سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ دفاتر کی منتقلی میں 2سے 3ماہ لگیں گے، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ کو دفاتر کی منتقلی کے لیے 1ماہ میں کوئی جگہ نہیں ملی۔ کیا آئی جی پولیس کے دفتر پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا؟ انہوںنے ریمارکس دیئے کہ دفاتر پر پاکستان کا جھنڈالگا ہے تو قانون پر عمل کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی ادارے کیوں حکومت کو شرمندہ کرانا چاہتے ہیں؟
جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ کیا سیکٹر ایف سیون اور ایف ایٹ پاکستان میں نہیں آتے؟ اگر یہ پاکستان میں نہیں ہیں اور قانون کا اطلاق نہیں ہوتا تو قومی پرچم اتارکرداعش کا جھنڈا لگادیں۔ عدالت نے نےسیکرٹری داخلہ، مواصلات، کیڈ اور چیرمین سی ڈی اے کو حکم دیا کہ مل کر بیٹھیں اور بتائیں کہ دفاتر کب منتقل ہوںگے۔