5 مئی 2015
وقت اشاعت: 16:21
نیپال میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو گئی
جیو نیوز - کھٹمنڈو...........نیپال میں آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد رقم درکار ہے۔ نیپال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بدبو اور تعفن کے باعث لوگ ماسک لگا کر روزمرہ کے کاموں میں حصہ لے رہے ہیں ،لوگوں نے صبح کے اوقات میں عبادت گاہوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے،دربار اسکواِئر کے کچھ حصوں سے ملبہ اٹھا لیا گیا ہے۔ یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والا دربار اسکوائر زلزلے میں شدید متاثر ہوا تھا،ماہرین آثارقدیمہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی روثہ قرار دئیے جانے والی عمارتوں کو گزشتہ حالت میں لانے کےلئے کروڑوں ڈالر اور کئی سال کا عرصہ درکار ہے۔ نیپال کی 80 سالہ تاریخ کے بد ترین زلزلے نے بچوں کے ذہن پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں جن سے نکلنے کے لیے وقت لگے گا، کٹھمنڈو کے عارضی کیمپوں میں بچے اس صدمے کو بھلانے کے لیے کھیلتے کودتےنظرآئے۔ زلزلے کے نتیجے میں 1 کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں ۔ ادھر کھٹمنڈو کے مشرقی گاؤں سے برفانی تود ے میں دبے 100 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔