8 مئی 2015
وقت اشاعت: 15:50
برطانیہ کے عام انتخابات، کنزرویٹو پارٹی نے میدان مار لیا
جیو نیوز - لندن.......ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو، تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں، 330 نشستیں جیت لیں۔ لیبر پارٹی نے232 نشستیں لیں، سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دے دیا۔ یو کِپ کے نائجل فراج اور لبرل ڈیموکریٹس کے نک کلیگ بھی مستعفی ہوگئے۔ برطانیہ میں دوبارہ کنزرویٹو پارٹی کی حکومت بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔ حریف لیبر پارٹی باقی سب کو ملا کر بھی کنزرویٹو تک پہنچنے کے قابل نہیں رہی۔ ایس این پی نے اسکاٹ لینڈ سے سب کا صفایا کردیا۔ ڈیوڈ کیمرون اقتدار کی دہلیز تک پہنچ گئے اور ممکن ہے انہیں اس پر قبضہ جمانے کےلیے کسی کی مدد کی ضرورت نہ رہے، 650 میں سے چند نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں جو پورے ہونے تک کنزرویٹو کو سادہ اکثریت مل سکتی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون اقتدار کی دہلیز تک پہنچ گئے اور اس پر قبضہ جمانے کےلیے انہیں کسی کی مدد کی بھی ضرورت نہیں، 650 نشستوں پر نتائج مکمل ہونے سے پہلے ہی کنزرویٹو پارٹی کو ایوان زیریں میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ کنزرویٹو کی روایتی حریف لیبر پارٹی اندازوں سے بھی بہت پیچھے رہ گئی اورڈھائی سو سے بھی کم نشستیں حاصل کرپائی۔ اس شکست کے بعد ایڈ ملی بینڈکو شدید تنقید کا سامنا ہے، لیبر کو جھٹکا لگا ہے اسکاٹش نیشنل پارٹی کی لمبی چھلانگ سےجس نےاسکاٹ لینڈ کے 50فیصد سے زائد ووٹ اور ایک دو کے سوا تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ آزادی کی حامی ایس این پی نے لیبر کے سربراہ سمیت بڑے بڑے برج گرادیے۔ 20سالہ طالبہ ماہاری بلیک انتخاب جیت کر 350سالہ تاریخ کی سب سے کم عمر پارلیمنٹیرین بن گئی ہیں۔ کنزرویٹو کی اتحادی لب ڈیم شرمناک شکست دے دو چار ہوئی ہے، پچاس سے زائد نشستیں رکھنے والی جماعت کو بمشکل دس سیٹیں ہی مل پائی ہیں۔ نک کلیگ قیادت چھوڑنے کا سوچ رہےہیں۔