18 اگست 2015
وقت اشاعت: 12:4
بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک اور متنازع فیصلہ
جیو نیوز - ممبئی ......بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک اور متنازع فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی حکومت نے مہاراشٹرا میں مدرسوں کی باقاعدہ اسکولوں کی حیثیت ختم کر دی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مدرسہ طالب علموں کو تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ حکومت نے ریاست کی تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں کو تعلیمی دھارے سے باہر قرار دیں، لیکن مسلم اور اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کیخلاف شدید احتجاج کر رہی ہیں۔ مسلم علماء کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قابل قبول نہیں ہے جبکہ کانگرس پارٹی کا موقف ہے کہ کسی بھی بچے کے ساتھ مذہبی بنیاد پر تفریق نہیں کی جانی چاہیے اور وہ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں اٹھائیگی۔ مہاراشٹرا میں اس وقت تقریبا2 ہزار مدرسوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے پڑھتے ہیں۔