21 اگست 2015
وقت اشاعت: 17:18
انقلاب سے پہلے اور پابندیوں کے بعد کا ایران اب کیسا بننے جارہا ہے؟؟
جیو نیوز - کراچی......انقلاب سے پہلے کا ایران کیسا تھا، پابندیوں کے بعد کے ایران میں کیا ہوا، پابندیوں کے بعد کا ایران کیسا ہوگا؟ تاریخی معاہدے کے بعد امکانات کی ایک نئی دنیا نے جنم لیا ہے۔ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں جہاں ایرانی معیشت عروج پر تھی، وہیں فن و ثقافت، علم و ہنر کے سوتے بھی اپنی بھرپور جولانی پر تھے۔ تیل کے خزانے روانی پر تھے۔ امریکا اس تیل کا سب سے’’بڑا‘‘ خریدار تھا۔ شاہ ایران اور امریکا کی دوستی بھی مثالی قرار دی جاتی تھی۔ ایران دنیا کے ساتھ تجارت ’’اپنی‘‘ شرائط پر کرتا تھا۔ دولت کی فراوانی کے اثرات، فن و ثقافت اور تعلیمی اداروں کی عمدگی کے ساتھ ’’بلند معیار‘‘ نجی زندگی کی شکل میں نظر آتے تھے۔ ایٹمی پروگرام کی بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ محمد رضا شاہ پہلوی نے 1974ء میں، 1994ء تک 23 ہزار میگا واٹ ایٹمی بجلی پیدا کرنے کے عزم کا اعلان کیا۔ پھر کہا کہ ایران دنیا کی توقعات سے کہیں پہلے خود کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح کر لے گا۔ 1978ء میں امریکی صدر جمی کارٹر تہران آئے اور جوہری تعاون کا ایک جامع سمجھوتہ بھی اصولاً طے پا گیا، مگر پھر1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد نہ شاہ کی حکومت نہ رہی اور نہ ایران کا ایٹمی پروگرام۔ آیت اللہ خمینی نے تہران میں اترتے ہی امریکا کو ’’شیطانِ بزرگ‘‘ قرار دیا اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرے اور استعمال کو حرام قرار دینے کا فتویٰ بھی جاری کیا۔ مرگ بر امریکا کے نعرے کھلے عام لگائے گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ ایرانیوں کو گھاس کھانی پڑ گئی ہو، یہ بھی نہیں ہوا کہ ایرانی معیشت نے پابندیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے،لیکن بہر حال پابندیاں، پابندیاں ہوتی ہیں۔ اگر ایرانی تیل چوری چھپے مارکیٹ میں آتا تھا تو آدھی قیمت پر، اب یہ پابندیاں نہیں ہونگی تو روز پانچ لاکھ بیرل سے زائد تیل مارکیٹ میں آئے گا۔ پھر ایران پر اور خطے پر خوشحال کے نئے در کھلیں گے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن توقع کی جاسکتی ہے، ایک بار پھر امریکا ایران دوستی کے نئے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے، شاید انٹرنیشنل برینڈز بھی تہران میں دیکھنے کو ملیں۔