تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
21 اگست 2015
وقت اشاعت: 17:34

ایران کے ایٹمی پروگرام سے خائف عالمی طاقتوں کیلئے لمحہ ٔسکھ

جیو نیوز - ویانا.......کئی برسوں تک ایران کے ایٹمی پروگرام سے خائف امریکا اور پانچ عالمی طاقتوں کے لیے یہ ایک سکھ کا لمحہ ہے۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان 12سال سے جاری کٹھن اور تھکادینے والے مذاکرات باالآخر ایک ایسے نتیجے پر پہنچ گئے،جسے تمام فریق اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ آسٹریا کا دارالحکومت ویانا، تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کی کامیابی کا گواہ بنا ہے۔ وہ کامیابی جس کا انتظار ایران سے زیادہ شاید امریکا اور اس کے اتحادیوں کو تھا۔ ایران کے جوہری پروگرام کو سفارت کاری سے محدود کرنے کی کامیابی ،30جون کو عبوری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران سمیت تمام ملکوں کا یہ کڑا امتحان تھا کہ کس طرح معاہدے کی تکمیل کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا جائَے، فریقین پیر کو رات بھر اور منگل کی صبح تک سر جوڑ کر بیٹھے تو فیصلہ کرکے اٹھے۔ اچھی خبر کے منتظر صحافیوں کو آگاہ کرنے کا وقت آیا تو بیساکھیوں کے سہارے سب سے آگے امریکی وزیر خارجہ جان کیری تھے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے وہ اعلان کیا جو مستقبل میں مغرب اور تہران کے تعلقات کی سمت تعین کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی اس موقع پر بے انتہا مسرور تھے۔ پہلے انگریزی میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پھر قومی زبان فارسی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا۔ سو صفحات پر مشتمل اس سمجھوتے کے تحت ایران ایک مقررہ حد تک ہی یورنیم افزودہ کرنے کا پابند ہوگا،جوہری توانائی سے توانائی کے مسائل پر ہی قابو پایا جائے گا،ہتھیاروں تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے،اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو تمام جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دینا ہو گی جبکہ وہ فوجی تنصیبات کے دوروں کا مطالبہ بھی کرسکیں گے،معاہدے کی پاسداری کے بدلے میں تہران پر 13سال سے عائد اقتصادی پابندیاں بتدریج ختم کی جائیں گی،اربوں ڈالرز کے منجمد اکاؤنٹس کھل جائیں گے، تیل کی تجارت معمول پر آئے گی، جوہری معاہدہ طے ہونے کو عالمی برادری نے تحسین کی نظر سے دیکھا ہے،لیکن ابھی اس کے عمل درآمد میں وقت ہے،توثیق کے لیے معاہدے کا مسودہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جائے گا،وہاں تو منظور ہوجائے گا لیکن صبر آزما کٹھن مرحلہ اوباما کو درپیش ہوگا،جنہیں کانگریس سے منظوری کے لیے ریپبلیکن ارکان کو مطمئن کرنا ہوگا،دوسری صورت میں کانگریس کی مخالفت کو ختم کرنے کے لیے ویٹو کا ہتھیار آزمایا جائے گا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.