22 اگست 2015
وقت اشاعت: 0:5
ایران اور6عالمی طاقتوںکا تاریخ ساز معاہدہ عالمی میڈیا میں زیر بحث
جیو نیوز - پیرس..... رضا چوہدری...... ایران اور6عالمی طاقتوںکے درمیان تاریخ ساز معاہدہ فرانس سمیت عالمی میڈیا میں زیر بحث ہے، جس میں ایک بات پر سب سے زیادہ زور دیا جارہا ہے اسرائیل اس معاہدے سے خوش نہیں ۔اکثریت کی رائے ہے کہ اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملہ پر سمجھوتہ ہو اس تناظر میں ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو اسرائیل اوربعض اسلامی ممالک صرف اس وجہ سے ایران کے جوہری پروگرام کے مخالف تھے کہ ایران ایک جوہری طاقت والا ملک ان کو قابل قبول نہیں تھا اور ان کا موقف تھاکہ اس سے مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ حالیہ معاہدے کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس معاہدے سے اسرائیل اور ان مسلم ممالک کا مو قف تو تسلیم کرلیا گیا ہے کہ ایران اس معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے ایران کیلئے یہ معاہدہ اس لئے قابل قبول اور فائدہ مند ہے کہ ایران کی سپریم کونسل شروع روز سے یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے نزدیک جوہری ہتھیار تیار کرنا اسلام کے ہی منافی ہے ہم یورینیم کو دیگر مقاصدکے استعمال کیلئے بنا رہے ہیں جن کو امریکہ سمیت بڑی طاقتیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھیں کیونکہ ایران کی اس وقت کی قیادت سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے مقابلے میں موجودہ قیادت اس وجہ سے اپنا مو قف تسلیم کرانے میں کامیاب ہوئے کہ موجودہ قیادت خطے کے متعلق لفظی جنگ کی پالیسی کے خلاف ہے لہٰذا اس کی اس پالیسی کے باعث امریکا اور دیگر طاقتوں کو اس بات پر یقین ہو گیا کہ ایرانی موقف درست تھا جبکہ لفظی جنگ ماضی کی ایرانی قیادت کے وقت کے حکمرانوں کی سوچ تھی جس کا ایرانی سپریم کونسل جو درحقیقت با اثر ہے سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا اسرائیلی قیادت اندرون خانہ اس معاہدے کے حق میں ہے کہ اس معاہدہ کی روح سے ایران جوہری ایٹمی طاقت ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ ان کو علم ہے۔ قبل ازیں جو ممالک جوہری ممالک کی صف میں شامل ہیں ان میں سے امریکہ کے سواکسی اور ملک نے آج تک جوہری ہتھیار استعمال نہیں کئے، لہٰذا اگر خدا نخواستہ تیسری عالمی جنگ مسلط کی گئی تو اس صورت میں صرف پاکستان ایک واحد اسلامی ملک ہوگا جو جوہری طاقت ہوگا، باقی ممالک غیر مسلم ہوں گے ایران کیلئے یہ معاہدہ اس وجہ سے بھی بہت اہم ہے کہ اس تنازعہ اور اس کے نتیجہ میں پابندیوں سے معاشی اور اقتصادی میدان میں ایران تنہا کھڑا تھا اور پاک چین کوریڈور کے موقع پر ایران کا اکیلا کھڑا رہنا کسی صورت میں ایران اور اس خطے کے حق میں نہیں تھا، وقت گزرنے کے ساتھ دنیا بھر اس چھ طاقتوں اور ایران کے تاریخ ساز معاہدے کو ہر کوئی سرا ہے گا اور پاکستان پر بھی اس کے دورس اثرات مرتب ہوں گے۔